خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 143

خطبات طاہر جلدے 143 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں عظیم الشان معجزہ گزرا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا تقویٰ اور آپ کا عشق الہی تھا۔تو آج بھی یہی چیز ہے جو کام آئے گی۔جماعت کی تعداد بڑھ گئی ہے لیکن تعداد کام نہیں آئے گی تقوی کام آئے گا اور تقویٰ کی اجتماعی طاقت کو اگر آپ تول لیں یا ناپ لیں یا کسی پیمانے کے او پر اس کو پرکھ لیں اس کا نام جماعت احمد یہ ہے وہ جتنا بڑھے گا جماعت احمد یہ بڑھے گی جتنا عظیم ہوگا اتنی جماعت احمد یہ عظیم ہوگی اس لئے اس بات کو بھلا کر آپ دنیا میں کوئی بھی اچھا کام نہیں کر سکتے۔چنانچہ یہ وہ لوگ ہیں جوا کیلے تھے لیکن ہزار ہا پر لاکھوں پر بھاری ہونے کی طاقت رکھتے تھے کیونکہ اللہ کے عاشق تھے اور فدائی تھے اور خالصۂ قربانی کے جذبے سے وہاں گئے تھے کوئی نفس کے فائدے کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں نہیں تھا بلکہ شدید ابتلاؤں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ان کو رد کیا ان کو تحقیر کی نظر سے دیکھا ہے ان کی طرف پیٹھ پھیر کر چل پڑے ہیں کوئی پرواہ نہیں کی کہ خدا کی راہ میں کیا کیا مصیبتیں ان پر اتر پڑتی ہیں۔پھر اس کے بعد حضرت الحاج مولانا نذیر احمد صاحب علی کا ذکر کرتا ہوں مختصراً۔افریقہ میں تیسرے مبلغ تھے یہ ۱۹۲۹ء میں گولڈ کوسٹ میں گئے۔پھر ۱۵ رمئی ۱۹۳۳ ء کو قادیان واپس تشریف لائے پھر تین سال کے بعد ۳۶ء میں دوسری مرتبہ گولڈ کوسٹ گئے پھر انکو وہیں سے ایک سال کے بعد سیرالیون نئے مشن کے قیام کے لئے ۲۰ را کتوبر ۱۹۳۷ء کو روانہ کیا گیا جہاں آپ نے آٹھ سال میں عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں۔صوفی منش سادہ انسان بہت ہی فدائی اور بے نفس بزرگ تھے۔بہت زیادہ دعا گو خدا سے خاص محبت اور تعلق رکھنے والے انسان۔کوئی طبیعت میں ریا کاری نہیں ، کوئی دکھاوا نہیں۔خاموشی سے قربانیوں کو برداشت کرنے والے۔۱۹۴۵ء کے بعد ۵۱ء میں واپس آئے اور پھر تین سال کے بعد ۱۹۵۴ء میں آپ کو بھجوادیا گیا اور سیرالیون ہی میں آپ کی ۱۹ مئی ۱۹۵۵ء کو بقضاء الہی وفات ہوئی بو کے مقام پر آپ کی تدفین ہوئی ہے۔ان کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بہت پہلے جانے سے ۱۹۴۵ء میں انہوں نے قادیان میں افریقہ رخصت ہونے سے پہلے ایک بات کہی تھی اور وہ بات دل کی گہرائی سے اس طرح نکلی تھی کہ اس کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمایا اور ان کی وہ خواہش پوری ہوگئی جس کا ذکر انہوں نے ۱۹۴۵ء