خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 139 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 139

خطبات طاہر جلدے 139 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء کرتے رہے اس لئے طبعا منہ سے Next کا لفظ جاری ہوا کرتا تھا۔تو ہر Next کے بعد اچانک وہ تصویر بدلتی تھی اور وہ تصویریں تو بدلتی رہیں لیکن نیر صاحب کی تصویر کبھی نہیں بدلی۔وہی بزرگ ، وہی شخصیت، وہی بے حد پیار کرنے والی اور جماعت کے معاملات میں بہت ہی زیادہ صرفے سے کام لینے والی شخصیت۔اس حد تک کہ جہاں تک جماعتی اموال کا تعلق ہے انہیں خاصا کنجوس کہا جا سکتا تھا لیکن اپنی ذات کے لحاظ سے نہیں جماعتی مصارف کے لحاظ سے۔بے حد خیال رہتا تھا کہ ایک پیسہ بھی کہیں غلط جگہ پہ خرچ نہ ہو جائے یا ضرورت سے زیادہ خرچ نہ ہو جائے۔یہ تھے جو افریقہ تشریف لے گئے اور جاتے ہی کچھ ان کی شخصیت، ان کی دعاؤں کا اثر کہ بہت ہی جلدی جلدی اور بڑی بڑی کامیابیاں نصیب ہونی شروع ہوئیں اور بعض دفعہ تو تاریں ایسی آتی تھیں کہ ہزار ہا دوستوں نے احمدیت کو قبول کر لیا ہے لیکن یہ ابتدائی دور زیادہ دیر جاری نہیں رہا۔اس اجتماعی قبولیت کے نتیجے میں اجتماعی حسد بھی پیدا ہوا اور باہر سے لوگ پہنچنے شروع ہوئے شرارت کرنے والے، احمدیت کے خلاف عناد دلوں میں بھرنے والے۔کچھ شمال سے جو مالکی فرقہ کے علماء تھے ان کے اوپر شمالی اثرات تھے انہوں نے مسلمانوں کو بھڑ کا نا شروع کیا بلکہ عیسائی چیفوں کو بھی بھڑ کا نا شروع کیا اور اس کے بعد اذیت کا ایک بڑا سخت دور شروع ہوا ہے۔اس دور میں سے براہ راست نیر صاحب کے گزرنے کا تو مجھے علم نہیں لیکن اس اول دور کے مبلغین نے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں وہاں اور ان مبلغین سے بڑھ کر وہاں کے مقامی احمدیوں نے۔مقامی احمدیوں نے تو اتنی تکلیفیں اٹھائی ہیں کہ آپ وہم بھی نہیں کر سکتے کہ افریقہ میں کبھی یہ واقعہ ہوا ہو گا لیکن افریقہ کے ہر ملک میں ایسی داستانیں پھیلی پڑی ہیں جہاں ابتدائی احمد یوں نے بہت ہی دردناک حالات دیکھے ہیں اور بلالی صبر اور بلالی شان کا مظاہرہ کیا ہے۔مگر اس کے سوا نیر صاحب نے ذاتی تکلیفیں جو غربت کی وجہ سے جماعت کے پیسے کو نہ استعمال کرنے نتیجے میں اپنی ذات پر جماعت کے پیسے کو کنجوسی سے استعمال کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوسکتی ہیں وہ بہت تکلیفیں دیکھیں اور بعض دفعہ یہ بھی ہوا ہو گا کہ کوئی پیسہ ہی نہیں تھا ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے۔چنانچہ ایک اقتباس میں سناتا ہوں چھوٹا سا جو الفضل ۹ جون ۱۹۲۱ء میں شائع ہوا۔نیر صاحب وہاں کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: برادران وہ جو گرمی میں برف اور شربت پی کر پیاس بجھاتے ہیں