خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 135
خطبات طاہر جلدے 135 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ کا مطلب ہے وہ زمین کے ساتھ پیوستہ ہو جاتی ہیں۔اس ملک کا حصہ بن جاتی ہیں، اس کی خاک بن جاتی ہیں۔اُس سے پھر آگے چیزیں نشو و نما پاتی ہیں۔تو یہ منظر بھی میں نے وہاں دیکھا اور ہر ملک میں یہی نظارے نظر آئے تو حقیقت یہ ہے کہ آئندہ بھی جو انقلاب برپا ہوں گے وہ عظیم الشان روحانی قربانیاں کرنے والے فقیر منش بندوں کے ذریعے ہوں گے۔جن کی نیتیں خالص ہوں گی۔جو اس عہد کے ساتھ جائیں گے کہ اس ملک کے حالات خواہ کیسے بھی ہوں ہم نے بہر حال وہاں خدمت کرنی ہے۔اُس کے نتیجے میں پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ ایک نیا برکتوں کا دور شروع کرے گا۔چنانچہ جوں جوں میں وہاں پھرتارہا میرے دل پر ایک اور ہی قسم کی روئیداد میرے دل سے گزرتی رہی ہے۔کچھ نظارے آنکھیں دیکھ رہی تھیں کچھ دل محسوس کر رہا تھا۔ایک سفر میرا جسم اور ظاہری آنکھیں کر رہی تھیں۔ایک سفر میری روح اور میری باطنی آنکھیں کر رہی تھیں اور دیکھنے والوں کو بھی معلوم نہیں ہوسکتا تھا کہ میں کیا محسوس کر رہا ہوں اور کیا سوچ رہا ہوں اس وقت یہ جو بھی واقعات رونما ہورہے ہیں۔میرے دل پر کیا اثر کر رہے ہیں۔اُن میں سے ایک سوچ یہی تھی جو میں نے بیان کی ہے۔بے انتہا خلوص کا اظہار ہوا ہے افریقہ کے ہر ملک میں اور آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ کس قسم کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں اُس شخص کے دل میں جس کو نظر میں رکھ کر ۱۰، ۱۵ ہزار آدمی جذبات سے بے قابو ہوئے ہوں۔اُس کا جو ارتکاز ہوتا ہے ایک دل میں وہ کیا کیفیت پیدا کرتا ہے کوئی دوسرا آدمی سوچ بھی نہیں سکتا۔جس طرح لیز ربیم سے ایک قوت پیدا ہوتی ہے۔وہی تجر بہ جذبات کے ارتکاز سے رونما ہوتا ہے۔بے شمار شعاعیں پھیلی ہوئی جب ایک بار یک بیم کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور ایک نکتہ پر اکٹھی ہو جاتی ہیں تو اتنی حیرت انگیز طاقت اُس میں پیدا ہوتی ہے کہ اُس کے نتیجے میں آج کل کی دنیا میں لیز ربیم کے ذریعے آنے والے میزائل کو ہوا میں تباہ کرنے کے منصوبے تقریباً مکمل ہو چکے ہیں۔تجربہ ہو چکا ہے اس بات کا کہ اگر ہم لیز ربیم سے استفادہ کریں تو اتنی شدید قوت کی شعاعیں پیدا ہوتی ہیں جو ہزاروں میل دور ہزار ہا میل کی رفتار سے چلنے والی میزائل کو آنافا نا ہلاک کر دیں۔تو اس لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سب جو اجتماعات تھے ان کا اُس وقت جس وقت میں اُن