خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 134

خطبات طاہر جلدے 134 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء یہ وہ صورتحال ہے ایک پہلو سے جسے میں نے وہاں دیکھا اور میں سمجھتا ہوں کہ افریقہ کو ابھی بہت زیادہ ضرورت ہے اساتذہ کی بھی اور اطباء کی بھی ، ڈاکٹروں وغیرہ کی بھی۔اب جو لوگ وہاں جائیں وہ اپنے فائدے کی خاطر نہ جائیں بلکہ خالصہ وقف کی روح سے جائیں اور یہ عزم کر کے جائیں کہ جو کچھ بھی ہو گا جو سر پہ گزرے گی گزر جائے گی لیکن ہم نے خدمت کی راہوں سے پیچھے قدم نہیں ہٹانا۔یعنی وقف کی روح کے ساتھ جو لوگ اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتے ہیں اُن کو میں بلا رہا ہوں اور اُن کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ افریقہ میں جو عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں یہ پرانے واقفین کی قربانیوں سے پیدا ہوئی ہیں۔جو حیرت انگیز تبدیلیاں آج وہاں نظر آرہی ہیں۔وہ ایسی عظیم الشان ہیں کہ اُن کا تصور وہاں کی جماعتیں بھی نہیں کر سکتی تھیں کہ کتنی حیرت انگیز ملک کے اندر تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔بعض احمدی بڑے بڑے صاحب تجربہ اور اپنے ملکوں کی حکومتوں میں با اثر انہوں نے مجھے بتایا کہ خود ہمیں بھی علم نہیں تھا کہ ہماری قوم احمدیت سے محبت اور تعاون میں اتنا آگے بڑھ چکی ہے اور اتنا زیادہ وہ اس وقت تیار ہے کہ اُسے پیغام پہنچایا جائے۔چنانچہ ایک صاحب نے اُن کا نام لینا مناسب نہیں اُن کے ملک کا نام بھی ظاہر کرنا مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی یہ ہو کیا رہا ہے کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہماری قوم کو کسی جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی ایسی خدمت کی توفیق ملے گی اور ایسے محبت کے اظہار کا موقع ملے گا، میرے تصور میں بھی یہ بات نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ میں نے دیکھا ہے یہاں حکومت کے سر براہوں کے ساتھ تو ہوتا دیکھا ہے اس کے سوا کسی اور کے ساتھ ایسا سلوک نہیں دیکھا اور یہ بھی انہوں نے بتایا کہ اس میں ہماری جماعت کی کوششوں کا دخل نہیں ہے۔جو کچھ ہو رہا ہے غیب سے ہو رہا ہے اور حیرت انگیز طریق پر ہورہا ہے۔تو یہ جو ساری باتیں تھیں ان کے پیچھے ایک پس منظر ہے قربانیوں کا۔دعا کرنے والے قربانیاں کرنے والے لوگ پہلے آئے ہیں اور بظاہر وہ اپنے وقت میں نمایاں طور پر کامیاب دکھائی نہیں دیے لیکن فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ کا یہ بھی ایک مطلب ہے کہ جو صالحات باقیات ہوتی ہیں جو خدا کی خاطر نیکیاں جاری کی جاتی ہیں۔لوگوں کے نفع کی خاطر جو لوگ محض اللہ کام کرتے ہیں وہ چلے بھی جائیں دنیا سے رخصت بھی ہو چکے ہوں تو اُن کی نیکیاں باقی اور قائم رہ جاتی ہیں اور اتنا مستقل وجود بن جاتی ہیں وہاں اس قوم کی زندگی میں کہ انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا