خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 131
خطبات طاہر جلدے 131 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء کرنے والے ہیں اور کھلم کھلا اُن پر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔آج کے خطبے کے لیے میں ڈاکٹروں اور اساتذہ کو مخاطب ہوتا ہوں۔افریقہ میں خدمت کے میدانوں میں آغاز تو بہر حال مبلغین نے کیا اور بہت عظیم الشان قربانیاں دیں لیکن رفتہ رفتہ اُن کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور ڈاکٹروں کا خدمت کا دور بھی شروع ہوا اور اس کے نتیجے میں بہت وسیع پیمانے پر مغربی ممالک میں عوام الناس سے اور خواص سے بھی رابطوں کی توفیق ملی۔غلط فہمیاں دور کرنے کی توفیق ملی اور براہ راست تو یہ ادارے تبلیغ کے ادارے نہیں تھے۔لیکن ان کے نتیجے میں مبلغین کو بہت زیادہ سہولتیں میسر آگئیں۔جو لوگ پہلے نفرت کی وجہ سے بات نہیں سنتے تھے وہ زیر احسان آکر اور نزدیک سے رابطہ رکھنے کے نتیجے میں دل کے لحاظ سے قریب آگئے اور جب دل قریب آتے ہیں تو پھر ذہنوں کے لیے بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا۔تو ان اداروں نے بھی بہت عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں اور ابھی بھی ان خدمات کی ضرورت ہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر ضرورت ہے۔اس دورے میں جو میں نے باتیں محسوس کی ہیں اُن میں سے ایک بات سامنے رکھنے کی ضررورت ہے وہ یہ ہے کہ شروع میں جو احمدی اساتذہ گئے تھے اور احمدی ڈاکٹر ز گئے تھے اُن کو تو پتا ہی نہیں تھا کہ افریقہ کے حالات کیا ہیں۔انہوں نے تو منفی پہلو سے افریقہ کے متعلق سنا ہوا تھا۔یہ جانتے تھے کہ وہاں مصیبتیں ہوں گی ، اندھیرے ہوں گے، جانور ہوں گے ، کیڑے مکوڑے ہوں گے۔پانی کی تکلیف ہوگی ، خوراک کی تکلیف ہوگی۔اس قسم کے خوفناک واقعات انہوں نے افریقہ کے متعلق سنے تھے جو ہمارے دورے پر جانے سے پہلے بھی لوگ ہمارے سامنے بیان کرتے رہے بلکہ اس سے بہت بڑھ کر۔پھر انہوں نے ابتدائی مبلغین کی عظیم الشان قربانیوں کے حالات پڑھے ہوئے تھے بعض نے اُن میں سے اور جانتے تھے کہ کس قدر شدید مشکلات میں سے گزر کر انہوں نے وہاں دین کی خدمت کی ہے۔اس لیے اُن کی خدمت میں کوئی لاگ نہیں تھی، کوئی نفس کی ملونی نہیں تھی۔وہ خالصہ للہ گئے اور خالصہ اللہ انہوں نے شفا خانے بھی قائم کئے اور سکول بھی اور اُس کے نتیجے میں اُسی نسبت سے بہت ہی برکتیں ملیں۔پھر بعد میں ایک ایسا دور آیا کہ یہ واقفین بھی جارہے تھے وہاں لیکن ان کے علاوہ کچھ اور احمدی دوست بھی جانا شروع ہوئے کیونکہ انہوں نے سنا کہ افریقہ میں تو مالی لحاظ سے بھی فوائد ہیں۔پاکستان میں ڈا کٹرکو کوئی اتنا نہیں پوچھتا جتنا افریقہ میں پوچھا جاتا ہے اور اگر