خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 130
خطبات طاہر جلدے 130 خطبه جمعه ۴ / مارچ ۱۹۸۸ء واقعہ یہ ہے کہ ساری جماعت خلیفہ ہے خدا تعالیٰ کی اور اُس کی اجتماعیت کے نتیجے میں جو طاقت پیدا ہوتی ہے اُس کا مظہر خلیفہ وقت ہوتا ہے۔اس لیے جب میں کہتا ہوں ہم کام کریں گے یا میں کام کروں گا تو ایک ہی بات ہے۔میں نے کام کرنا ہے تو آپ نے کرنا ہے، آپ نے کرنا ہے تو میں نے کرنا ہے۔اس لحاظ سے ہمارے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔ہماری مجموعی خدمت، مجموعی اخلاص، مجموعی تقویٰ کا نام خلافت ہے۔اور اسی کا دوسرا نام جماعت ہے۔تو کام تو بہر حال ہم سب نے مل کے کرنا ہے۔اس سلسلے میں مجھے پتا ہے۔میرا تجربہ بتا رہا ہے کہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اخلاص کے ایک ایسے اعلیٰ مقام پر کھڑی ہے کہ ہمیشہ توقع سے بڑھ کر تعاون کرتی ہے۔توقع سے بڑھ کر خدمت کے میدانوں میں قدم مارتی ہے اور قربانی کے مظاہرے کرتی ہے بلکہ بعض جگہ روکنا پڑتا ہے۔بار ہا ایسا ہوتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھایا جا رہا ہے۔محض اخلاص میں اور قربانی میں بھی تو مجھے حکما روکنا پڑتا ہے کہ آپ نے یہ کام نہیں کرنا اور یہ فعل بھی سنت پر مبنی ہے کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو بھی بارہا اس طرح کرنا پڑا۔بعض عشاق نے نیکی کے شوق میں اپنی طاقتوں سے بڑھ بڑھ کہ نذریں باندھیں اور اپنے آپ کو خدمتوں کے لیے پیش کیا۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے ان کو فرمایا نہیں اتنا نہیں کرنا ، اتنا کرنا ہے۔خود اپنے گھر میں اپنی ایک زوجہ مبارکہ کو فرمایا یہ تم نے کیا رسی لٹکائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میں عبادت کرتی ہوں۔یہاں تک کے بعض دفعہ ساری ساری رات جاگ کے عبادت کیا کرتی تھی۔مجھے خطرہ ہوتا ہے کہ میں بے ہوش ہو کے گر نہ پڑوں۔اُس وقت میں اس رسی پر ہاتھ ڈالتی ہوں۔رسول اکرم نے فرمایا ہرگز ایسانہیں کرنا۔خدا تعالیٰ کسی کو تکلیف مالا يطاق نہیں دیتا۔یہ کوئی عبادت نہیں ہے که زبر دستی خدا کو خوش کرو۔کم کر دو، اتنی عبادت کرو جتنی تمہیں بشاشت سے توفیق ہے۔اس سے بڑھ کر تم نے عبادت نہیں کرنی ( بخاری کتاب الجمعہ حدیث نمبر: ۱۰۸۲)۔تو یہ مضمون حضرت اقدس محمد مصطفی نے ہی سکھایا ہے اور چونکہ آپ ہی کی یہ جماعت ہے اس لیے یہاں بھی ایسے مواقع پیش آتے رہتے ہیں۔تو اس بارے میں مجھے کوئی فکر نہیں ہے انشاء اللہ تعالیٰ جماعت ضرور لبیک کہے گی۔لیکن منصوبے کے بعض حصے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مخفی رکھنے والے ہیں بعض ہیں جو ظاہر