خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 118
خطبات طاہر جلدے 118 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء کی بجائے نفوس میں دلچسپی رکھتے تھے ، تعداد میں دلچسپی رکھتے تھے، اُن کے ہر عیب کو اُسی طرح قبول کیا کوئی اُس میں دخل نہیں دیا۔چنانچہ آپ حیران ہوں گے یہ سن کے کہ اسی افریقہ میں جو بظاہر آج کی دنیا کا افریقہ ہے آج سے پانچ ہزار سال پہلے کی وہ شدید ظالمانہ روایات موجود ہیں۔جن کو آپ فراعین مصر یا اُس سے پہلے کے زمانوں کے بادشاہوں کے ساتھ منسوب سمجھا کرتے تھے آج بھی موجود ہیں۔مثلاً عیسائی افریقہ میں پیکنوں میں تو ہے ہی ،عیسائی افریقہ کی میں بات کر رہا ہوں اُن میں بڑے بڑے اُن کے لیڈر ہیں ، وہ پیرا ماؤنٹ چیفس ہیں جو عیسائیت کے سپوت سمجھے جاتے ہیں وہاں، اُن کا سارا علاقہ اُن کے تابع ہے، چرچ بھی جاتے ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ جب ایک چیف مرتا ہے تو اس کے پیروکار سینکڑوں لوگوں کے سر جدا کر دیتے ہیں تن سے تا کہ چیف کے ساتھ دفن کریں اور یہ جہالت ہے کہ اگر چیف جائے گا اگلی دنیا میں تو اکیلا تو نہیں جانا چاہئے اُس کو ، چیف کا کیا فائدہ اگر وہ اکیلا چلا جائے۔اُس کے خدمت گار ہونے چاہئیں اُس کے ساتھ ایک پورا قافلہ ہونا چاہئے۔جتنا بڑا چیف اتنے زیادہ سروں کی ضرورت پڑتی ہے اور آج کل کی دنیا میں ہو رہا ہے اور حکومتیں جانتی ہیں لیکن بے بس ہیں اور بالکل دخل نہیں دیتیں۔بعض حکومتوں نے آواز بلند کرنی شروع کی ہے اس کے خلاف لیکن صرف نصیحت کی حد تک ہے قانون بنے ہوئے ہیں لیکن اس لحاظ سے نہیں کہ اُن پر عمل درآمد ہو۔جن علاقوں میں یہ رسمیں جاری ہیں آج بھی جاری ہیں بلکہ ایک واقعہ تو مجھے وہاں خدام نے بڑا دلچسپ یہ سنایا۔دلچسپ بھی اور افسوسناک بھی کہ ایک بڑا چیف مرا ، اول تو چیف کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو شہر خالی ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن وہ لوگ بھی بڑی ہوشیاری سے اس کو دباتے ہیں واقعہ کو اور چھپائے رکھتے ہیں کہ چیف کی موت کا نہ پتا لگے کسی کو۔مگر خبریں نکل ہی جاتی ہیں لوگ بھاگنا شروع ہو جاتے ہیں بہر حال ایک جگہ چیف جب مرا تو سینکڑوں آدمی نکل کھڑے ہوئے۔اُن کے خاص آدمی مقرر ہوتے ہیں بڑی بڑی انہوں نے تلواریں ہاتھ میں پکڑی ہوتی ہیں خاص قسم کی تلواریں چوڑے پھل والی، جس کو بنگلہ دیش میں داؤ کہتے ہیں ، تو جگہ جگہ چھپ کے کھڑے ہو جاتے ہیں کوئی مسافر ملے بچہ بڑا عورت، مردان کو سر چاہئے وہ ایک ہی وار میں سر جدا کر کے تو سرلے کے تن وہیں چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور پھر وہ اُن قبروں میں چیف کے ساتھ دفن کرنے کے لیے وہاں پیش کر دیتے ہیں۔ساری دنیا کی آنکھوں کے سامنے وہ دفن ہوتے ہیں مجال