خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 109
خطبات طاہر جلدے 109 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۸۸ء بہت ہی زیادہ کمی ہے اور بعض دفعہ تو تکلیف ہوتی تھی کہ معمولی ادنی ضرورتیں بھی ان کی پوری نہیں ہوئیں۔اس کے باوجود ان کے طلباء میں حیرت انگیز صبر ہے، ڈسپلن ہے، اطاعت کی روح ہے۔بعض جگہیں میں نے دیکھی جہاں ہوسٹل کی حالت ایسی نا گفتہ بہ تھی کہ اگر پاکستان یا کسی اور قوم کے لوگ ہوتے تو بغاوت کھڑی ہو جاتی وہاں۔اگر ظاہری بغاوت نہیں تو کم سے کم شدید نکتہ چینیاں اور اعتراضات کا سلسلہ شروع ہو جاتا لیکن وہ لوگ صبر کا پیکر بنے ہوئے خاموشی کے ساتھ ان حالات کو برداشت کر رہے ہیں اور جب میں نے جائزہ لیا اور تفصیل سے دیکھا تو اس وقت بھی زبان پر ایک لفظ بھی وہ شکوہ کا نہیں لے کے آئے اور جب میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ یہ کریں گے اس وقت ان کے چہرے پر جو اطمینان تھا وہ دیکھنے کے لائق تھا وہ سمجھتے تھے کہ ہم میں یہ ایک خدا داد چیز ہے ہم حقدار تو نہیں ہیں گویا لیکن اللہ کی رحمت ہے کہ یہ چیزیں بھی ہمیں مل جائیں گی۔ایسی صبر اور شکر کرنے والی قوم کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک ہونا چاہئے ، ان تمام امور کے علاوہ بے شمار ایسے امور ہیں جن پر پہلے نظر نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو نمایاں کر کے سامنے کیا اور ترقی کے بہت سے نئے امکانات روشن ہوئے جو دورے کے بغیر ممکن نہیں تھا کہ وہ سامنے آتے۔اس وقت خصوصیت کے ساتھ میں خطبات کے ترجمے اور کیسٹس کے نظام کو عام کرنے کے متعلق جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔یہ درست ہے کہ جماعت میں اللہ تعالی کے فضل سے بڑے بڑے علماء ہیں جو دنیاوی علوم کے لحاظ سے یا دینی علوم میں، کلاسیکل علوم کے لحاظ سے ان کو ظاہری علوم کہا جاتا ہے وہ مجھ سے بہت زیادہ ہوں گے اور ہیں اس کا مجھے علم ہے بعض ہمارے اساتذہ ہیں جامعہ کے بعض اور پروفیسر ز ہیں اسی طرح سلسلے کے اور تجربہ کار مربیان ہیں جنہوں نے بہت گہراعلم حاصل کیا ہے اور علمی حد تک میں یہ نہیں کہ سکتا کہ میں ان کے مقابل پر علم رکھتا ہوں لیکن اس کے با وجود خدا تعالیٰ کا خلافت سے ایک تعلق ہے اور علوم کی روح سے اللہ تعالی خلفاء کو آگاہ کرتا ہے اور جماعت کی زمانے کے لحاظ سے ضروریات سے خلفاء کو متنبہ کرتا ہے۔خلفاء کی نظر ساری عالمی ضروریات پر ہوتی ہے اور جن علوم کی تفسیر کی ضرورت پڑے جیسی روشنی خدا تعالیٰ خود اپنے خلفاء کو عطا فرماتا ہے ویسی ایک علم میں خواہ کسی مقام کا رکھنے والا عالم ہو اس کو اپنے کسی طور پہ نصیب نہیں ہو سکتی۔یہ وھبت ہے، اللہ تعالی کی عطا ہے جس میں کوئی کوشش یا جد و جہد کا دخل نہیں نہ حقداری کا دعویٰ