خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 103
خطبات طاہر جلدے 103 خطبه جمعه ۱۹؍ فروری ۱۹۸۸ء رہتی ہے۔یہ وہ بات ہے جو سب سے عظیم اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفی مے کے ساتھ واقع ہوئی۔آپ سب سے زیادہ شکر گزار بندے تھے جو اب تک زمین میں پیدا ہوئے ہیں اور اسی طرح اللہ بھی آپ کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان تھا۔پس اللہ نے آپ کو چن لینے میں کوئی بے انصافی نہیں کی۔آپ سب سے زیادہ شکر گزار تھے اور اللہ سب سے بڑھ کر آپ پر مہربان تھا۔پس یہ نہ ختم ہونے والا عمل ہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد مصطفی میت یہ بھی ایک مقام پر کھڑے نہیں رہے۔آپ کا ہر دوسر المحہ اللہ کے نزدیک ترقی پا رہا تھا اور ترقی کر رہا تھا اور اب تک کر رہا ہے۔یہ مطلب ہے اس آیت كا: وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأولى (الضحی :۵)۔اے میرے پیارے محمد ؟ تیری زندگی کا ہر آنے والا لمحہ گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہوتا ہے۔یہ سب شکر گزاری کا پھل ہے۔اس بات کو یا در کھتے ہوئے اور اس کا احساس کرتے ہوئے احمدیوں کو ان حکومتوں کا شکر گزار ہونا چاہئے جو ان کے لئے جذبات شکر رکھتی ہیں جو صرف الفاظ سے ہی شکر یہ ادا نہیں کرتیں بلکہ کاموں ، تعاون اور خدمت کے ذریعہ بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔لوگوں کو یہ احساس کرائیں کہ اپنے ملک کی حکومت کو مضبوط کرنا ان کا فرض ہے۔انشاء اللہ آپ عنایات الہی کے حصول کے نہ ختم ہونے والے سلسلہ میں داخل ہو جائیں گے نہ صرف یہاں لوگوں کی طرف سے خوشنودی حاصل کریں گے بلکہ اللہ آپ پر اپنی مہربانی نازل کرتا چلا جائیگا۔اللہ کرے کہ آپ ایسے روئیے اختیار کریں کہ جن سے اللہ راضی ہو جائے۔وہ آپ کو کبھی تنہا نہ چھوڑے، آپ کبھی اس کی ناراضگی کا سبب نہ بنیں۔اللہ کرے کہ اس کے فضل سے احمدیت افریقہ کے تمام ممالک میں پھیل جائے اور پورا افریقہ احمدیت کی خوبصورتی اور محبت سے بھر جائے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔شیطان مجھے ایک نہایت ضروری بات بھلانے ہی لگا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یاد دلا دی چنانچہ میں پھر کچھ آخری الفاظ کہنے کیلئے کھڑا ہوا ہوں۔میں بھولنے ہی لگا تھا کہ مجھے خاص طور پر نائیجیریا کے احمدیوں کا لازماً شکر یہ ادا کرنا ہے اس پر جو انہوں نے اس دورہ کو کامیاب بنانے کیلئے کوشش کی۔آپ کے بوڑھوں اور آپ کے جوانوں، آپ کے مردوں اور آپ کی عورتوں اور آپ کے بچوں سب نے دن رات بہت کام کیا ہے تاکہ اس دورہ کو بہت زیادہ کامیاب بنایا جائے اور وہ سب اس کیلئے دعاؤں میں بھی لگے رہے۔جو محبت انہوں نے میرے لئے دکھائی ہے وہ جذبات میں ہلچل