خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 95
خطبات طاہر جلد ۶ 556 95 خطبہ جمعہ ۶ / فروری ۱۹۸۷ء بے بس ہو جاتا ہے ان کمزوریوں کے مقابل پر تو اور زیادہ بے چین اور پریشان ہوتا ہے۔آگے جو آپ کو منزل نظر آ رہی ہے اس کو اگر آپ سامنے رکھ کر اپنی کمزوریاں دور کرنے کی کوشش کریں اور دعا یہ شروع کر دیں کہ اے خدا ! نئی صدی میں میں داخل نہ ہوں جب تک میری کمزوریاں مجھ سے جھڑ نہ چکی ہوں اور بعض نئی خوبیاں مجھ میں پیدا نہ ہو چکی ہوں۔تو یہ عزم اور یہ قریب آتی ہوئی منزل آپ کی بہت مدد کرے گی اور عام حالات میں جن گناہوں کا مقابلہ آپ نہیں کر سکتے تھے یہ ایک نیا رجحان آپ میں گناہوں کا مقابلہ کرنے کی مزید طاقت پیدا کر دے گا۔تو دعاؤں کے ساتھ انفرادی کمزوریاں بھی دور کرنے کی کوشش کریں اور اپنے گھر اور اپنے ماحول پر نظر ڈال کر ان کی کمزوریاں بھی دور کرنے کی کوشش کریں لیکن اعتراض کا نشانہ بنا کر نہیں ، طعنے دے کر نہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو نصیحت فرمائی محبت اور پیار اور خلوص کے ساتھ نصیحت کرتے ہوئے ، ان کے لئے دعائیں کرتے ہوئے عاجزی اور انکساری کے ساتھ کوشش کریں کہ اپنے ماحول میں سے بھی کچھ برائیاں دور کریں کچھ نئی خوبیاں پیدا کر دیں۔اس ضمن میں جہاں تک گھروں کا تعلق ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک احمدی گھروں میں بہت سے دکھ موجود ہیں جو محض یا تو خاوند کی بد خلقی کی وجہ سے ہیں یا بیوی کے عدم تعاون اور نیکی کی کمی کی وجہ سے ہیں یا ایسی ساس کی وجہ سے ہیں جس نے آنے والی کو اپنی بیٹی نہیں سمجھا اور یا ایسی بہو کی طرف سے ہیں جس نے اپنی ساس کو ماں کا مقام نہیں دیا اور طرز عمل کی کجی ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں اور جو یوں ٹھیک ہو سکتی ہے کہ ایک آنا فانا دل کا ارادہ ہو اور خدا سے توفیق ملے تو فوراً دفع ہو سکتی ہے لیکن توجہ نہیں ہے۔انا کا مسئلہ بنا ہوا ہے ہر جگہ۔پھر بعض لمبی عادتیں ہیں جو ایسے گھر کے ماحول کو بگاڑ رہی ہیں مثلاً ایک خاوند دیر سے بد خلق ہو چکا ہے بات بات میں اس کے ترشی ہے اس کی بات میں سختی اور طعن ہے، وہ بچوں کی تربیت بھی سختی سے کرنا چاہتا ہے، بیوی کے اوپر بھی ہر وقت کی تنقید کہ گھر میں ایک عذاب کا ماحول بنایا ہوا ہے اس نے اور سمجھتا ہے کہ اسی میں میری بڑائی ہے کہ میں زور اور ڈنڈے کے ساتھ اپنے گھر پر حکومت کر رہا ہوں۔بعض بیویاں ہیں جو مجھتی ہیں کہ جب تک میں نشوز نہ کروں خاوند کے خلاف، جب تک انگوٹھے کے نیچے نہ رکھوں اس وقت تک گھر میں امن