خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد ۶ 89 خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۸۷ء گی۔یہ نہیں ہو گا کہ اس دوسرے شخص نے جس نے کسی ایک سے سیکھ کر اچھا کام کیا ہے اس کے ثواب میں پہلے کو حصہ دار بنایا گیا ہے۔فرمایا ہے اس کو بھی اتنا ملے گا اور جس کی وجہ سے کسی نے توفیق پائی اس کو بھی اتنا ملے گا۔سیر و مضمون ہے جسے ہر احمدی کو ذہن نشین کرنا چاہئے اور کریڈٹ خدا کے ہاں بنتے ہیں دنیا کے کریڈٹ کی ویسے ہی پر واہ کوئی نہیں کرنی چاہئے۔اگر تحریک جدید کے کھاتے میں کریڈٹ نہ بھی بن رہا ہو یا انجمن کے کسی شعبے کے کھاتے میں نہ بھی بن رہا ہو تو بالکل اس کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔کریڈٹ ایک ہی ہے جو خدا کے کھاتے میں بنتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہ نے بھی اسی مضمون پر زور دیا ہے۔فرماتے ہیں: ہم ہوئے خیر امم تجھ سے ہی اے خیر الرسل ! تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے (درمین صفحه: ۱۷) سارا کریڈٹ خود پیش کر رہے ہیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو کہ آپ نے ہمیں آگے بڑھنا سکھایا تو بڑھے ورنہ ہمیں کہاں سے توفیق ملنی تھی۔تو جہاں تک داعیین الی اللہ کا تعلق ہے ان کا مزاج یہ ہونا چاہئے۔ان کا مزاج یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جی ہم نے بنایا ہے۔اپنے امیر کے سامنے اپنے مبلغ کے سامنے ان کا ادب اور احترام اور انکساری کا یہ انداز ہونا چاہئے کہ جی خدا نے توفیق دی ہے لیکن آپ نے سکھایا تو تو فیق ملی ، آپ کا نیک نمونہ پکڑا تو توفیق ملی سب کچھ آپ ہی کا ہے۔اس رنگ میں اگر باہمی تعاون اور محبت کے ساتھ سارے داعین الی اللہ از سر نو کام شروع کر دیں تو ایک بہت بڑے انقلابی دور میں جماعت داخل ہو سکتی ہے اور وہی دور ہے جس کی دیکھنے کی تمنا لئے ہوئے میں آج آپ کو سامنے یہ بات رکھ رہا ہوں۔بعض دفعہ اس سے پہلے اب تک ملکوں سے ہزار ہا کی اطلاعیں تو آتی رہی ہیں مگر آج لاکھوں کی بیعتوں کی اطلاع نہیں ملی تو دعایہ کریں اور کوشش یہ کریں کہ اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے ہم معیار کے پیمانے بدل دیں بالکل اور ملک اب ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں جانچے جانے لگیں اور کثرت سے ایسے ملک پیدا ہوں اور نئے شامل ہو جائیں اولین کی صف میں جہاں سے یہ اطلاع