خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 842
خطبات طاہر جلد ۶ 842 خطبہ جمعہ اردسمبر ۱۹۸۷ء ہیں ٹھیک ہے تم کہتے ہو تو میں یہ نیکی بھی نہیں کروں گا، تم ایسے بد بخت انسان ہو کہ تمہارے کہنے کی طرز میں ہی دشمنی اور ظلم ہے اس لئے اگر یہ نیکی بھی ہے تو اب میں یہ نیکی نہیں کروں گا کیونکہ تم کہ رہے ہو۔اس لئے نصیحت کس کی کامیاب ہوتی ہے اور کس کی نہیں ہوتی اس کا راز یہاں بیان فرمایا گیا۔وہ لوگ جن کی نظر اپنے تک رہتی ہے، اپنی برائیاں تلاش کرتے رہتے ہیں ، اپنی کمزوریاں دیکھتے رہتے ہیں اور خدا سے مدد مانگتے رہتے ہیں کہ اے خدا! ہم تو بہت ہی کمزور ہیں بہت ہی گناہ گار ہیں جو کام تو نے سارے عالم کو نصیحت کرنے کا ہمارے سپر د فر ما دیا اس کام کی ہم اہلیت نہیں رکھتے کیونکہ ہم اندر سے داغدار ہیں اور تجھ سے بہتر اور کوئی نہیں ہے جو ہمارے گناہوں پر نظر رکھتا ہے اور ہمارے گناہوں کو جانتا ہے۔اس لئے تیرے حکم کے تابع ہم نصیحت کر رہے ہیں اس زعم میں نصیحت نہیں کر رہے کہ ہم نصیحت کے اہل ہیں۔تیرے ارشاد کی تعمیل میں ہم دعوت الی اللہ کے لئے نکلے ہیں اس بر تے اور اس زعم پر نہیں کہ ہم اتنے ولی اللہ بن چکے ہیں کہ ہم لوگوں کو اپنی طرف بلائیں۔یہ جو انکسار ہے طبیعت کا یہ دعوت الی اللہ میں طاقت پیدا کرتا ہے۔یہ انکسار جو ہے طبیعت کا یہ استغفار کی طرف کثرت سے مائل کرتا ہے اور ایسا انسان جو مؤثر داعی الی اللہ بنا چاہے اس نکتے کو نظر انداز کر کے وہ کبھی مؤثر داعی الی اللہ نہیں بن سکتا۔آپ کے اندر جو Humility انکسار ہونا چاہئے جس سے بات میں اثر پیدا ہوتا ہے اور بات میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے اس مضمون کی طرف خدا نے توجہ فرمائی ہے کہ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِك ہمہ وقت، ہر دم اپنے گناہوں کی طرف متوجہ رہ اور خدا تعالیٰ سے ان کی بخشش کے لئے طلب گار رہ۔اس کے نتیجے میں تسبیح و تحمید کا مضمون خود بخو دا بھرتا ہے جب انسان اپنے آپ کو گناہوں سے پاک نہیں دیکھتا اور خوبیوں سے خالی پاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایک ہی ذات اس کے لئے باقی رہ جاتی ہے جو سب گناہوں سے پاک ہے اور ساری خوبیوں سے مرصع ہے یعنی خدا تعالیٰ۔پس اپنی نفی کے نتیجے میں خدا کا اثبات پیدا ہوتا ہے لا الہ الا اللہ کا یہ فلسفہ ہے کہ جب غیر اللہ مٹتے ہیں تب اللہ اُبھرتا ہے یعنی ویسے تو اللہ ہر جگہ ہے غیر اللہ ہے ہی کوئی نہیں لیکن انسان کی دنیا میں جو صاحب شعور ہے اس کی دنیا کا عجیب حال ہے جتنے زیادہ غیر اللہ اس کے دل میں موجود ہیں اتنا ہی خدا کا فقدان ہوتا چلا جاتا ہے۔جتنے غیر اللہ مٹتے چلے جاتے ہیں اتنا ہی خدا