خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 825
خطبات طاہر جلد ۶ 825 خطبه جمعه ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء کے ساتھ ان فرشتوں نے وہی معاملہ شروع کر دیا۔آپ کو چیزیں پہنچائی جاتی تھیں، دی جاتی تھیں بغیر مانگے بغیر کسی حساب کے بغیر کسی شمار کے اور آپ کو علم تھا کہ یہ لا ز ما پوری ہوں گی۔اب مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کا ایک تعلق ہے اور اس تعلق میں فیس بھی آجاتی ہے۔فیس دینے والے مریض کے ساتھ فیس لینے والے ڈاکٹر کا تعلق ہے جس میں فیس ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے یہ ایک عام معروف تعلق ہے۔اب کوئی ڈاکٹر کہے کہ دیکھو ! میں اتنے لوگوں کی شفا کا موجب بنتا ہوں اس لئے شفا دینے والے فرشتوں کا مجھ سے خاص تعلق کیوں نہیں قائم ہو جاتا اور کیوں جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھ سے غیر معمولی معاملہ نہیں کیا جاتا۔وجہ یہ ہے کہ ہر ڈاکٹر کا تعلق فرشتوں والا نہیں ہوا کرتا۔بعض ڈاکٹر ایسے ہیں جن کا تعلق بالکل اور مضمون کا ہے اگر وہ فیس لیتے بھی ہیں تو اس لئے نہیں کہ اگر فیس نہ ملتی تو ہم علاج نہ کرتے اور وہ اس بات سے بالا ہوتے ہیں کہ مریض سے ان کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ان کی تمام تر توجہ اس بات کی طرف ہوتی ہے کہ مریض کو مجھ سے کیا فائدہ پہنچے گا اور زیادہ سے زیادہ میں کیا فائدہ پہنچا سکتا ہوں۔اس پہلو سے جو ہمارے مخلص احمدی ڈاکٹر افریقہ میں گئے ہیں انہوں نے خدا کے خاص سلوک کے بڑے عجیب عجیب نظارے دیکھیں ہیں کیونکہ ان کے جانے میں نیت صاف تھی اور پاک تھی اور لہی رہی تھی۔وہ اس غرض سے گئے تھے کہ خدا کے بندوں کی شفا کے لئے خدا کی خاطر ہم یہ سفر اختیار کر رہے ہیں اور وہاں جا کر انہوں نے مریضوں سے فیس کی خاطر تعلق نہیں جوڑا۔فیس بھی ملتی تھی جہاں سے مل سکتی تھی لیکن مشروط نہیں کیا اس بات کو بلکہ جس کو جو تو فیق تھی وہ دے گیا جس کو نہیں توفیق تھی اس کا مفت بھی علاج کیا اور بعض ایسے ہمارے مخلص ڈاکٹر ہیں جنہوں نے اور ضرورتیں بھی اپنی جیب سے پوری کیں اور پھر ان کے لئے دعائیں بھی کیں۔ان کے ہسپتالوں میں جوشفا کا معیار تھا باوجود اس کے کہ ان ہسپتالوں میں ضرورت کی چیزیں موجود نہیں ہوا کرتی تھیں یعنی بعض دفعہ تو جو جراحی کے آلے ہیں وہ بھی گند اور پرانی قسم کے اور Anaesthesia کا بھی کوئی انتظام نہیں ، بے ہوش کرنے کا بھی۔بعض دفعہ بجلی بھی نہیں ہوتی تھی لالٹین کی بتی میں کھلی فضا میں آپریشن کیا جاتا تھا ایک عام میز کے اوپر اور اس کے باوجود ان کی شفا کا معیار اتنا بلند ہوا کہ بعض بڑے بڑے حکومت کے افسران جن کو ہر قسم کی اعلیٰ اعلاج کی سہولت مہیا تھی بہترین ہسپتالوں کو چھوڑ