خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 824
خطبات طاہر جلد ۶ 824 خطبه جمعه ۴ /دسمبر ۱۹۸۷ء ہے کہ بعض بزرگوں کی بعض ضرورتیں فورا پوری ہوتی ہیں اور بعض بزرگوں کی بعض دوسری ضرورتیں فوراً پوری ہوتی ہیں۔بعض بزرگوں کو بعض امور میں خاص اعانت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور بعض دوسرے بزرگوں کو اس مضمون میں کوئی اعانت نہیں ہوتی۔بعضوں کو غیر معمولی طور پر شفا دی جاتی ہے، بعض لمبے عرصے تک بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں ان کو کوئی شفا نہیں دی جاتی لیکن ان کے رزق کی ضمانت دی جاتی ہے۔اس طرح اگر آپ صلحا کے واقعات ،صحابہ کے واقعات پڑھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کے قریب کے واقعات تو بالکل ابھی تازہ موجود ہیں ان پر آپ غور کریں تو تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ کیوں مثلاً حضرت خلیفتہ المسیح الاول گو یہ اعجاز دیا گیا کہ آپ کی ہر ضرورت بغیر کسی ظاہری سبب کے پیروی کی پوری کی جارہی ہے، ان کی پہلی زندگی پڑھیں خلافت سے پہلے کی یا صحابیت سے پہلے کی تو پھر آپ کو مسئلہ سمجھ آئے گا کہ وہ ہمیشہ ساری زندگی لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے پر مامور تھے۔ساری زندگی ان کا مقصد اعلیٰ یہ معلوم ہوتا تھا کہ خدا کے ضرورتمند ہندوں کی حاجات پوری کریں۔کوئی آتا ہے کہ مجھے اتنے قرض کی ضرورت ہے وہ اسی وقت دے دیں گے بغیر پوچھے کہ آیاوہ کب واپس کرے گا، کیسے واپس کرے گا۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر شخص کو یہی طریق اختیار کرنا چاہئے۔اگر ہر شخص مصنوعی طور پر یہ طریق اختیار کرے، کسی بھی نیکی کواختیار کرے تو نظام عالم درہم برہم ہو جائے گا۔ہر شخص کو پھر خدا توفیق عطا فرماتا ہے بعض خاص قسم کی نیکیوں کی اور ان نیکیوں کے لئے ان کا مزاج بنایا جاتا ہے۔اس لئے ایسے قرض دینے والے جب قرض دیتے ہیں تو اس نیت سے دیتے ہیں کہ اگر وہ نہیں دے گا تو میں اُف نہیں کروں گا، دوبارہ اس سے پوچھوں گا نہیں۔چنانچہ وہ کتابت سے آزاد کئے جاتے ہیں پھر۔وہ قرضے جس میں کتابت ضروری ہے یعنی تحریر ضروری ہے یہ تو ان قرضوں کی بات ہے جہاں برابر کالین دین ہے اور لین دین کی نیت کے ساتھ ایک انسان قرض دے رہا ہے لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الاول" کے مزاج کا انسان جو اس لئے دیتا تھا، اس نیت سے دیتا تھا کہ میں نے دوبارہ یاد بھی نہیں کروانا، مانگنا بھی نہیں۔اس کا لازما طبعا اس فرشتے سے جو ملاء اعلیٰ پر ان تمام فرشتوں پر افسر اعلیٰ مقرر فرمایا گیا ہے جو حاجات پوری کرنے والے فرشتے ہیں ایک گہرا تعلق پیدا ہو گیا یعنی حضرت خلیفہ المسیح الاول کا اور اس تعلق کے اظہار کے نتیجے میں آپ کے ساتھ خدا کے اذن