خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 816
خطبات طاہر جلد ۶ 816 خطبہ جمعہ ۴ ردسمبر ۱۹۸۷ء میں بھی دعا کے لئے لکھتے ہیں۔جب ان کو دعا کا مضمون سمجھایا جاتا ہے تو بعض دفعہ اپنی لاعلمی میں وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر ہماری شفاعت کر دیں کیونکہ شفاعت کے آگے تو کوئی چیز بھی ناممکن نہیں۔اس کا طبعی جواب جو قدرۂ طبعا اور فوراً ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہی ہے کہ :۔مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ (البقره: ۲۵۶) کہ اللہ کے سوا، اللہ کی اجازت کے سوا وہ ہے کون جو خدا کے حضور شفاعت کر سکے اور یہ اتنی عظیم الشان اور پُر ہیبت آیت ہے کہ اس کے اثر سے انبیاء بھی الگ نہیں، اس کے دائرہ اثر سے انبیاء بھی باہر نہیں۔اسی مضمون کی یہ دوسری آیت ہے لیکن اس آیت میں فرشتوں کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔اس کی طرف میں دوبارہ آتا ہوں لیکن اس سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ جب میں ان کو یہ لکھتا ہوں کہ شفاعت تو صرف خدا کے اختیار میں ہے وہ جس کو اجازت دے وہی شفاعت کر سکتا ہے اور میں عاجز اور کم حیثیت انسان اپنے آپ کو اس مقام پر نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ وہ منصب عطا فرمائے جس میں اس کا اور بندے کا شفاعت کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔تو اس پر یہ سوال اُٹھتے ہیں کہ کیا وہی لوگ جو کسی نبی کی زندگی میں پیدا ہوئے اور نبی سے ان کا تعلق قائم ہوا کیا صرف وہی ایسے خوش نصیب ہیں جن کو شفاعت نصیب ہوسکتی ہے اور وہ تمام زمانے جو انبیاء کے بغیر ہیں یعنی انبیاء کے بغیر ان معنوں میں کہ اس وقت کوئی نبی جسمانی لحاظ سے زندہ موجود نہیں۔کیا وہ سارے شفاعت کے مضمون سے خالی زمانے ہیں اور شفاعت کا کوئی فائدہ ان زمانوں میں نہیں پہنچ سکتا ؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے میں نے اس آیت کو اختیار کیا ہے اورا س پر کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آسمانوں میں خدا کے ملائک ہیں اور ان کی بھی یہ حیثیت ہے ان کو بھی خدا تعالیٰ نے ایسے مناصب عطا فرمائے ہیں کہ جب خدا ان کو اجازت دے ان بندوں کے لئے جن کے لئے وہ چاہے اور جن سے وہ راضی ہو تو ان کو ان کے لئے شفاعت کی اجازت دے دیتا ہے۔پس یہ کہنا کہ بنی نوع انسان پر کبھی بھی ایک ایسا دور آتا ہے جس میں ان کے لئے شفاعت ہو ہی نہیں سکتی یہ غلط ہے۔قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ شفاعت کا ایک جاری و ساری سلسلہ ہے یعنی نظام ہے جو خدا تعالیٰ کی مرضی سے حرکت میں آجاتا ہے اور اس کی مرضی کے بغیر حرکت میں نہیں آتا اور ہر وقت آسمان پر ایسے ملائک خدا کی طرف سے مامور ہیں جو شفاعت کے منصب پر بھی قائم کئے جاتے