خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 815 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 815

خطبات طاہر جلد ۶ 815 خطبہ جمعہ ۲ دسمبر ۱۹۸۷ء شفاعت کے مضمون کی لطیف تشریح (خطبہ جمعہ فرموده ۴ /دسمبر ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی: وَكَمْ مِنْ مَّلَكٍ فِي السَّمَوتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ يَّأْذَنَ اللهُ لِمَنْ يَّشَاءُ وَيَرْضُى ( انجم:۳۷) قرآن کریم کی جس آیت کریمہ کی میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ کتنے ہی فرشتے آسمانوں میں ایسے ہیں کہ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آتی یا کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی مگر اس کے بعد کے خدا تعالیٰ ان کو شفاعت کی اجازت عطا فرمادے اس کے لئے جس کے لئے وہ چاہے اور جس سے وہ راضی ہو۔اس آیت میں جو شفاعت کا مضمون بیان ہوا ہے آج میں نے اس مضمون کو ایک خاص وجہ سے اختیار کیا ہے۔مختلف احباب جماعت جو دعاؤں کے خط لکھتے ہیں بعض کے مسائل اتنے الجھے ہوئے ہوتے ہیں یا دنیا کی نظر میں ان کی بیماریاں ایسی بڑھ چکی ہوتی ہیں، ایسی شدت اختیار کر چکی ہوتی ہیں کہ دنیا کے علم کے لحاظ سے وہ نا قابلِ شفا قرار دیئے جاتے ہیں اور بھی ایسے مسائل ہیں مثلاً ایک عورت ہے جس کا بچہ ہو ہی نہیں سکتا دنیاوی علم کے مطابق یا ایک مرد ہے جس کو تولید کی طاقت ہی نصیب نہیں ہوئی اسی قسم کے اور بہت سے معاملات ہیں جن میں چونکہ احمدی کو دعا کی عادت ہے، دعا پر انحصار کی عادت ہے اور دعا سے ایک لا ینفک تعلق احمدی کو قائم ہو چکا ہے۔اس لئے وہ ایسے معاملات