خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 783 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 783

خطبات طاہر جلد ۶ 783 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء وہاں نہیں کرنا چاہتیں ہم یہاں ان سے کرنا چاہتی ہیں۔چنانچہ معا بعد میں اس مجلس میں گیا اور ان میں یہودی بھی تھیں مسلمان بھی تھیں ہندو بھی سکھ بھی عیسائی عورتیں بھی اور اچھی خاصی ایسی مجلس تھی جو وہ نمائندہ کلاسز کی مجلس ہوتی ہے نمائندہ طبقات کی مجلس کہلا سکتی ہے اور بڑی گہری دلچسپی انہوں نے لی اور اس کے بعد جب باہر آیا ملاقاتیں ہوئی تو وہاں بھی دوستوں نے بڑی محبت کے ساتھ بڑے اچھے خیالات کا اظہار فرمایا۔اس وقت تک کھڑے رہے وہیں رہے جب تک میں واپس نہیں آ گیا اور ملاقات کے بغیر باہر نہیں گئے الا ماشاء اللہ اور واپسی کے وقت مجھے پتالگا نیو یارک میں ایک خاتون جو اس مجلس میں آئیں ہوئیں تھیں امریکن انہوں نے بیعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ چاہتی ہیں کہ خود آئیں۔چنانچہ جب بیعت کی ان سے میں نے پوچھا کہ کیا خاص وجہ تھی آپ کی بیعت کی تو انہوں نے کہا وہ واشنگٹن کی مجلس میں میں شامل ہوئی تھی اور اس میں جو آپ کے اوپر خاص رنگ میں حملے کئے گئے تھے اور کوشش کی گئی تھی کہ آپ کے اثر کو مٹایا جائے جس طرح آپ نے احمدیت کے دفاع میں جواب دیئے مجھے اسی وقت یقین ہو گیا تھا کہ آپ سچے ہیں اور یہ لوگ جھوٹے ہیں اور میرے دل میں میخ کی طرح گڑ گئی تھی یہ بات کہ احمدیت کچی ہے پھر کچھ وقت لگا مجھے کیونکہ میرا معاشرہ مختلف ہے اور اچا نک مذہب بدلنا پھر اپنی عادات بدلنا خیالات بدلنا یعنی طرز رہائش بدلنا یہ آسان کام نہیں لیکن اب مجھے توفیق مل گئی ہے اور وہ پہلی مجلس میں ہی برقع پہن کے آئیں تھیں۔سفید فام امریکن تھیں لیکن ان کے اندر ایک اور خوشی کا پہلو یہ تھا کہ ریڈ انڈین بلڈ بھی موجود تھا جس کی ہمیں ضرورت ہے تعارف کی اور ریڈ انڈین ان کے رشتہ داریوں کے تعلقات بھی ابھی تک قائم تھے۔تو مجھے تو بڑی تلاش تھی ایسے لوگوں کی جن کے ذریعے ہم ریڈ انڈینز (Red Indians) میں بھی داخل ہوسکیں۔تو اس پہلو سے میرے نزدیک اس کی بڑی اہمیت تھی لیکن مجھے بتایا یہ گیا کہ جب انہوں نے فیصلہ کیا دوسرے دن بیعت کرنی ہے تو ساری رات بیٹھ کے برقع سیا اور برقع پہن کر آئیں۔تو یہ اچانک تبدیلیاں ہے یہ انسان کے بس کی بات ہی نہیں یہ خدا تعالیٰ کے تصرف میں جو دل ہیں اس کے کرشمے ہیں اور وہ دل بدلتا ہے اور اچانک اس طرح کا یا پلٹ دیتا ہے کہ کس معاشرے سے اٹھی بچی ایک اور نوجوان لڑکی۔جب وہ بیعت کی اس نے اور میں نے کہا آپ دستخط کر دیں اور دعا کر لیتے ہیں اکٹھے تو اس کے بعد وہ اتنی زیادہ جذباتی ہو گئیں تھیں کہ جو خواتین ان کو ساتھ لے کر آئیں تھیں ان کے ساتھ ، ایک ایک کے