خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 776
خطبات طاہر جلد ۶ 776 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء حالات کے مطالعہ کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ یہ پوری صحیح تصویر نہیں ہے اس کو زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔چنانچہ اس کی طرف مجھے ایک امریکہ کے کانگرس مین نے توجہ دلائی جب وہ ملاقات کے لئے تشریف لائے تو ضمناً ان کو یہ اندازہ ہو گیا کہ میری امریکہ کے متعلق رائے اچھی نہیں ہے۔تو انہوں نے کہا کہ آپ اس پہلو سے جب ملاقاتیں کریں گے تصور کریں گے تو اس پہلو سے ضرور مطالعہ کریں کہ امریکن عوام اچھے لوگ ہیں۔دل کے اچھے ہیں، سادہ ہیں اور ان کے دل میں برائی نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ خود بعض بڑے بڑے Cartels کا شکار ہو چکے ہیں بڑی بڑی مافیا قسم کی تنظیموں کے نیچے وہ بے بس ہیں۔یہ آخری لفظ تو انہوں نے نہیں کہے مگر مراد یہی تھی کہ آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ خود معصوم اور بے قصور لوگ ہیں۔چنانچہ اس سے مجھے بڑا فائدہ پہنچا انہوں نے جو یہ اس زاویے سے امریکنوں کے حالات کے جائزے کا مشورہ دیا تو اس کا میں بڑا ممنون ہوں کیونکہ اس سے مجھے واقعہ بہت فائدہ پہنچا اور سارے امریکہ کے سفر کے دوران ملاقاتوں کے بعد جن میں گورے بھی تھے کالے بھی افریقین بسے ہوئے بھی اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے بھی۔میں نے یہ اندازہ کیا کہ سارا امریکہ خود اس وقت غلام بنا ہوا ہے اپنے نظام کا اور یہ جو نہایت ہی ذلیل قسم کا مالیاتی نظام سودی نظام اور مادہ پرستی کا نظام ان کے اوپر نافذ ہو چکا ہے اس سے وہ نکل نہیں سکتے اب بالکل بے اختیار ہو چکے ہیں ان کے ہاتھوں میں اور چند بڑے بڑے ایسے Cartels ہیں، چندا ایسے بڑے بڑے جتے ہیں اموال کے اوپر قبضہ کرنے والے جن کے قبضے میں سارے امریکہ کی ہر چیز آچکی ہے۔ان کا تمدن، ان کا معاشرہ ، ان کا مذہب، ان کی سیاست، ان کا عام رہن سہن ، بولنے کے انداز ، رہنے کے انداز یہ تمام کے تمام اس وقت چوٹی کے چند اہم جتھوں کے قبضے میں ہے جو Sources پر یعنی جو بھی قوتوں کے منبع ہیں ان پر قابض ہو چکے ہیں اور اپنے مفاد کو قائم رکھنے اور آگے بڑھانے کے لئے وہ ہر قسم کی بدی امریکن عوام کو دیتے ہیں اور ان کے مزاج کو بگاڑتے ان کے مزاج کو بگاڑنے کے بعد بگڑی ہوئی چیزیں پھر ان کو مہیا کرنے کی ذمہ داری لیتے گویا کہ آخری چیز پیسہ ہے اور وہ پیسہ چونکہ چندلوگوں کے قبضے میں ہے اس لئے پیسے کی خاطر وہ قوم کی ہر چیز کو قربان کر سکتے ہیں ان کے مزاج کو ان کے خیالات کو ان کی سیاست کو، ان کے بین الاقوامی تعلقات کو تو بہت ہی مظلوم حالت ہے اس قوم کی اس پہلو سے اور