خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد ۶ 775 خطبہ جمعہ ۲۰ / نومبر ۱۹۸۷ء کی Violence کے اوپر سوال کیا تھا۔وہاں کے چوٹی کے قابل سرجنز (Surgeons) میں ان کا شمار ہے اور دنیا میں شہرت رکھنے والے دوست ہیں۔ان کو جب میں نے اس کا جواب دیا تفصیل سے تو اس کے بعد ان کا یہ تاثر تھا انہوں نے اپنے دوست کو بتایا کہ میں تو اپنی شام کی محفل اور کلب قربان کر کے صرف تمہاری خاطر آیا تھا اور میں تیار ہو کے آیا تھا کہ ایک دو گھنٹے بہت ہی بور ہوں گا اور بڑی مشکل سے وقت گزرے لیکن ایسی مجلس میں آکر میں نے محسوس کیا کہ اگر یہ مجلس ہے تو میں اس کے لئے ہر جگہ جا کر اپنا وقت خرچ کرنے کے لئے شوق سے تیار ہوں گا کیونکہ اسلام کے متعلق اور بعض دیگر امور میں ایسی ایسی معلومات حاصل ہوئیں کہ اس سے پہلے ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا۔پھر اسی طرح ایک اور دوست اسی جگہ وہ بھی ایک بہت قابل ڈاکٹر ہیں اور عملاً دہریہ، مذہب سے متنفر تھے انہوں نے ایک سوال کیا اور سوال کے جواب کے بعد ان کا تاثر یہ تھا کہ دوسرے دن وہ خود اپنے دوست کے پاس پہنچے اور کہا کہ میں آج تک ساری زندگی مذہب سے متنفر رہا ہوں کوئی کبھی دلچسپی نہیں لی لیکن صرف ایک سوال کرنے کے نتیجے میں جب اسلامک نظریہ مجھے معلوم ہوا ہے تو مجھ میں اتنی دلچسپی پیدا ہو گئی ہے کہ اب میں لٹریچر مانگنے کے لئے آیا ہوں۔مجھے مذہب کے متعلق ہر قسم کا لٹریچر دو، مذہب سے مراد اسلام تھی اور میں اس کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں اور اس کے علاوہ بھی کثرت سے وہاں سے مطالبے شروع ہو گئے۔تو صرف یہ ایک نمونہ ہے جو ہر جگہ اسی طرح دہرایا گیا ہے اللہ کے فضل سے۔تو میں نے یہ محسوس کیا کہ باوجود اس کے کہ عام تاثر یہی ہے کہ امریکہ میں اسلام کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔یہ تاثر درست بھی ہے اور غلط بھی ہے۔اسلام کے خلاف نفرت نہیں ہے۔اس اسلام کے خلاف نفرت ہے جو بگڑی ہوئی صورت میں آج امریکہ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ایک اور پہلو سے ان سب مواقع پر ان کی سوسائٹی کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا کیونکہ میں تو اس نظر سے ان کو دیکھتا رہا کہ اسلام کے داخل کرنے کے لئے کون کون سے مواقع ہیں، کون کون سے نئے رستے کھل سکتے ہیں۔جیسا کہ میں پہلے بیان کرتا رہا ہوں میرا تاثر امریکہ کے متعلق یہی تھا اور وہ درست ہے کہ سب دنیا میں اس وقت گندگی پھیلانے کا سب سے بڑا مرکز امریکہ ہے اور ہر بدی وہاں ایجاد ہوتی ہے، ہر دنیا کی برائی امریکہ سے پھوٹ رہی ہے لیکن ایک اور پہلو سے مجھے اس سفر میں جب ان کے