خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 735

خطبات طاہر جلد ۶ 735 خطبہ جمعہ ۶ نومبر ۱۹۸۷ء بات کو وہ مجھ سے چھپا نہیں سکتے۔جب میں دورہ کرتا ہوں ملتا ہوں لوگوں سے تو خدا تعالیٰ مجھے ساتھ دکھا دیتا ہے کہ کون لوگ ہیں کتنا کام کر رہے ہیں اور ساری جماعت اس محنت میں شامل ہے یا چند لوگوں کی محنت باقی جماعت کھا رہی ہے۔پھر اسی طرح بعض شہروں میں کوئی کام نہیں ہورہا لیکن سارے ملک کی مجموعی محنت کے نتیجے میں خدا تعالیٰ جو فضل نازل فرمارہا ہے بعض امراء وہی دکھاتے ہیں حالانکہ ان کو یہ دکھانا چاہئے کہ میرے ملک میں کتنے حصے ابھی تک سوئے پڑے ہیں؟ کتنی کھیتیاں ہیں جو بیکار پڑی ہیں اور ان کے لئے میں کیا کر رہا ہوں؟ ان کے لئے میری مجلس عاملہ کیا کر رہی ہے اور میرے ساتھی کس طرح توجہ کر رہے ہیں؟ اس طرف سے نظر ہٹا کر چندلوگوں کی محنت پر خوش ہو جاتے ہیں۔ان کی محنت پر خوش ہونا تو ضروری ہے لیکن ان کی خاطر ، ان کی محنت کے نتیجے میں دوسروں سے خوش ہونے کا کیا مطلب؟ یعنی جنہوں نے کام کیا ہے ان کی محنت پر تو بہر حال خوش ہونا ہے لیکن ان کی محنت کو باقی سب پر تقسیم کر کے سب سے برابرخوش ہو جانا یہ کوئی معقول بات نہیں۔اس لئے ان کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔لیکن بہر حال میں نے دیکھا ہے کہ جہاں بڑی رونق دکھائی دیتی ہے تبلیغ کے لحاظ سے ان لوگوں میں بھی جب قریب سے جا کر آپ مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک جماعت کا اکثر حصہ فعال نہیں ہے۔بہت چند گنتی کے لوگ ہیں ہر جماعت میں جو محنت کر رہے ہیں اور ان کے پھل کو اس ساری جماعت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور ساری جماعت پھر فخر کرتی ہے کہ ہاں ہم نے یہ کام کیا ہے حالانکہ چند ہیں جو کام کرنے والے ہیں۔اس ضمن میں ایک مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ میں سے جو اچھے ہیں جو آپ کی جماعت کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کا پھل بھی آپ اس لحاظ سے بے شک کھائیں کہ وہ آپ کے ہیں لیکن جو اپنا پھل کھانے کا مزہ ہے وہ بالکل اور چیز ہے۔دوسرے کی کمائی پر پلنا بھی بعض دفعہ جائز ہوتا ہے لیکن جو اپنی کمائی پر پلنا ہے وہ بالکل مختلف نوع کی چیز ہے۔ایک واقعہ حضرت مصلح موعود نے بھی کئی دفعہ سنایا میں بھی پہلے سنا چکا ہوں لیکن ہر دفعہ اس میں ایک لذت پائی جاتی ہے، وہ پرانا نہیں ہوتا کیونکہ اس میں گہری حکمت کا راز ہے ، وہ میں آج آپ کو پھر سناتا ہوں۔ایک بزرگ کے متعلق جو تاجر بھی تھے روایت ملتی ہے کہ ان کا بیٹا جب جوان ہوا تو انہوں نے اس کو ایک تجارت کے قافلے کے ساتھ ایک بیرونی ممالک کے سفر کے لئے تیار کیا بہت سا