خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 665

خطبات طاہر جلد ۶ 665 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء ہے، دنیاوی اموال کے معنوں میں استعمال کیا ہے اگر چہ اس کے ساتھ دوسرے معنی بھی وابستہ ہیں۔تو اس مضمون سے پتا چلتا ہے کہ حضرت نوح یہ پیغام دے رہے تھے کہ آج واقعہ میرے پاس کوئی خزانے نہیں ہیں، آج میرے پاس واقعہ علم غیب نہیں ہے اور میں فرشتہ بھی نہیں ہوں جو خدا تعالیٰ کے غیب میں خدا تعالیٰ کی عطا کے مطابق کسی نہ کسی حد تک شریک ہوا کرتا ہے یعنی شریک کا لفظ تو نہیں کہنا چاہئے لیکن فرشتوں کو جیسا کہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ غیب کا انسانوں کی نسبت زیادہ علم دیا جاتا۔یہ سب کہنے کے باوجود آپ کا یہ فرمانا کہ میں ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کو دنیا کی دولتیں نہیں دی جائیں گی۔یہ طرز بیان جو عربی زبان سمجھتے ہیں یا انگریزی میں بھی بعض اوقات ایسی طرز بیان کو استعمال کیا جاتا ہے جتنا منفی میں شدت رکھتی ہے اتنا ہی مثبت میں بھی شدت کے معنی پیدا کر دیتی ہے۔جب آپ کہتے ہیں میں ہر گز نہیں کہ سکتا کہ کبھی تمہیں خدا نہیں دے گا اس کا مطلب ہے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ لازما تمہیں خدا بہت زیادہ دے گا۔چنانچہ فرمایا کہ ہم غریبوں کے بعد آنے والی نسلیں ہیں جن کو خدا تعالیٰ دنیا کے اموال بھی کثرت سے عطا فرمائے گا۔پس اگر اسی میں تمہاری دلچسپی ہے تو ہم تمہیں بتا دیتے ہیں کہ کل تم غریب کئے جانے والے ہو اور یہ لوگ امیر کئے جانے والے ہیں۔آخر پر فرمایا اللهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ دلوں کی قیمت ہوا کرتی ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ خوب جانتا ہے کہ ان کے دلوں پر کیا گزر رہی ہے وہ کیسی کیسی اس سے محبت رکھتے ہیں ، کیسی کیسی قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں۔اگر آج ان کے پاس نہیں ہے اس کے باوجود یہ سب کچھ فدا کرنے کی تمنار کھتے ہیں۔پس خدا تو دلوں پر نظر رکھنے والا اور دلوں سے پیار کرنے والا ہے۔اگر میں ان باتوں کی طرف متوجہ نہ ہوں اور خدا کی طرح ان سے سلوک نہ کروں اِنِّي إِذًا لَمِنَ الظَّلِمِينَ میں تو پھر بہت ہی گھاٹا کھانے والا اور ظلم کرنے والا بن جاؤں گا۔جیسا کہ ان آیات کے ایک مختصر تفسیری ترجمہ سے آپ پر ظاہر ہو گیا ہو گا حضرت نوح کا زمانے کتنا پرانا ہے، کتنی قدیم کی باتیں ہیں لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ آج کل خود اسی ملک میں امریکہ کے حالات پر یا امریکہ کے حالات کو سامنے رکھ کر یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے۔یہاں بھی ایسی قوم بستی ہے جس کو دنیا حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے۔خود ان کے اہل وطن جو نسبتاً سفید فام ہیں ان کے