خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 664
خطبات طاہر جلد ۶ 664 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۷ء جوخدا کے بندے بن رہے ہیں بلکہ تمہیں ایک اور بات بھی بتا تا ہوں کہ اگر کسی کی طبیعت میں یہ بات داخل نہ بھی ہواگر وہ ان کو نیچی نگاہ سے دیکھے گا اور گھٹیا سمجھے گا تو خدا کی پکڑ سے پھر اس کو کوئی نہیں بچا سکتا ، کوئی مدد پھر اس کو غیب کی طرف سے نصیب نہیں ہوگی۔فرمایا وَ يُقَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي من اللہ پھر اللہ سے مجھے بچائے گا کون؟ کون میری حفاظت کرے گا خدا تعالیٰ کی پکڑ سے۔اگر میں نے ان غریبوں کو دھتکار دیا أَفَلَا تَذَكَّرُونَ پھر تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے۔پھر اسی مال والے پہلو کو نمایاں کرنے کے لئے آپ نے فرمایا:۔وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَآ بِنُ اللهِ وَلَا اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ اِنِّى مَلَكَ وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِى أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللهُ خَيْرًا کہ میں تمہیں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے پاس خزائن ہیں، دنیا کے خزانے اور بڑے اموال ہیں تم وہ خزانے میرے پاس آ کے لو اور میں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں خود بذاتہ غیب کی خبریں رکھتا ہوں ، نہ میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔وَلَا أَقُولُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِى أَعْيُنَكُمْ لَنْ تُؤْتِيَهُمُ اللهُ خَيْرً ا لیکن میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تم نے غربت کی وجہ سے ذلیل جانا ہے خدا انہیں مال و دولت نہیں عطا فرمائے گا۔یہ ایک طرز بیان ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی باتوں کا تو مجھے کچھ پتانہیں میں عالم الغیب نہیں ، نہ میں فرشتہ ہوں تم لوگوں کی طرح ایک انسان ہوں جسے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے نعمتیں عطا کیں یعنی روحانی نعمتیں اور میرے پاس خزائن نہیں ہیں لیکن خدا ایک وقت ضرور لائے گا کہ میرے ماننے والوں کے گھر خزانوں سے بھر دے گا کیونکہ خیر سے مراد دنیا کی دولت ہوتی ہے۔جس طرح حسنہ سے مراد اول معنوں میں نعمتیں جو اخلاقی نعمتیں ہوں یا روحانی نعمتیں ہوں اول معنوں میں حسنہ سے مراد وہی نعمتیں ہوا کرتی ہیں۔اس کے نتیجے میں دنیاوی نعمتیں بھی بعض دفعہ اس کے دائرے میں شمار کی جاتی ہیں لیکن اول طور پر حسنہ کا معنی نیکیاں اور خوبیاں اور روحانی اور مذہبی نعمتیں ہیں نہ کہ دنیاوی نعمتیں اور اکثر قرآن کریم نے لفظ خیر پہلے درجے میں دنیاوی نعمتوں کے طور پر استعمال کیا