خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد ۶ 629 خطبه جمعه ۱/۲ کتوبر ۱۹۸۷ء تقریباً سومیل ایک طرف سے دوسرے طرف پہنچنے تک طے کرنے پڑتے ہیں کیونکہ جس گھر سے میں واپسی پہ چلا تھا وہاں سے آخری شہر کے کنارے تک پہنچتے ہوئے پورے چھیانوے میل ہو گئے تھے گویا ربوہ اور لاہور کے درمیان پورا شکا گو آباد ہے۔اب وہاں بغیر کسی سے پوچھے یہ اندازہ لگانا کہ میں کس طرف مڑوں کون سی سڑک لوں یہاں تک کہ میں مرکز کے اتنا قریب پہنچ جاؤں کہ صرف ایک یا دو خطرےمول لے کر میں وہاں پہنچ سکوں یہ کسی انسان کے بس کی بات ہی نہیں ہے، ناممکن ہے آپ ہزار دفعہ کوشش کر کے دیکھ لیں آپ کبھی کسی ایسے ایڈریس پر اتنے بڑے شہر میں قریب نہیں پہنچ سکتے۔چنانچہ میں سفر کرتا رہا اس سڑک پر وہ 80 West اس وقت تھی میں West کی طرف جارہا تھا اور میرے بیوی بچے مجھ سے پوچھتے رہے کتنی دیر ہوگئی ہے آپ کو چلتے ہوئے آپ کہیں جاتے کیوں نہیں پوچھتے کیوں نہیں۔میں نے کہا بس میں اسی وقت جاؤں گا جب مجھے خدا تعالیٰ دل میں ڈالے گا کہ اب مڑ جاؤ۔چنانچہ ایک موقع پر پہنچ کے میں دائیں طرف مڑ گیا پھر اس سڑک پر چلتا رہا پھر خیال آیا کہ چلو اب ہم اس طرف مڑ جاتے ہیں پھر اس طرف مڑ گئے اور ایک دو موڑوں کے بعد ایک پٹرول اسٹیشن نظر آیا میں نے کہا یہاں پوچھتے ہیں۔جب وہاں موٹر کھڑی کی تو جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے سارے ہی اس میں Black Americans تھے کوئی ایک بھی سفید فام نہیں تھا اور سب شرابوں میں مست اور چہرے اور حلیے سے اچھے خاصے خطرناک نظر آرہے تھے ان میں بعض موٹے تازے جو خاص لڑا کا طرز کے لوگ ہوتے ہیں وہ بھی اور کار کھڑی ہوتے ہی انہوں نے کار کو گھیر لیا۔چنانچہ میں اُتر امیں نے ان کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔ایک نوجوان لڑکی جو خود بدمست سی تھی اس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ڈالا وہ آگے بڑھی اور مجھے کہا کہ تم کیا چاہتے ہو۔میں نے کہا فلاں نمبر ہے ٹیلی فون کا میں نمبر ڈائل کرنا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس ٹوٹے ہوئے پیسے نہیں ہیں۔اس نے کہا پیسے میں دوں گی اور میں نمبر ڈائل کرتی ہوں اور تم نے صرف بات کرنی ہے۔جب نمبر ڈائل کیا تو وہاں ہمارے ایک نورالدین نام کے ٹیکسی ڈرائیور ہوا کرتے تھے جو بعد میں شاید تعلیم بھی اچھی حاصل کی وہ ٹیلی فون پر بیٹھے ہوئے فورا مل گئے۔انہوں نے کہا ہم تو آپ کا بڑی دیر سے انتظار کر رہے ہیں بتا ئیں آپ کہاں ہیں؟ میں نے کہا مجھے پتا نہیں میں اس لڑکی کو فون دیتا ہوں اس سے پوچھو کہ ہم کہاں ہیں۔اس لڑکی سے اس نے بات کی اس نے کہا دوبارہ فون پہ بات کرو اس نے کہا آپ پانچ منٹ کے