خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 586
خطبات طاہر جلد ۶ 586 خطبہ جمعہ ا ار تمبر ۱۹۸۷ء یا کئی قسم کے ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ بعض جماعتوں دو نیم کر دیتے ہیں۔ایک حصہ ایک طرف ، دوسرا حصہ دوسری طرف اور ایک دوسرے کی طرف مقابل ہو کر ایک دوسرے کی برائیاں دیکھنا اور اچھالنا اور ہر ایک کو یہ سمجھنا کہ یہ جماعت کی ترقی کی راہ میں روک ہے۔ایسی جماعتیں تو نہ صرف صفر ہو جاتی ہیں بلکہ منفی کی طرف تیزی سے حرکت کرنا شروع کر دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ بہت سی ایسی جماعتیں جو میری نظر میں تھیں خدا تعالیٰ نے بہت فضل فرمایا۔اب ان میں سے بھاری اکثریت ایسی ہے جو اس برائی سے آزاد ہو چکی ہے، نجات پا چکی ہے۔لیکن چند ایک گنتی کے ابھی باقی ہیں پاکستان میں بھی اور باہر کے ممالک میں بھی۔پھر دوسرا اختلاف ہوتا ہے جو عاملہ میں ہوتا ہے۔آپس میں لڑتے رہتے ہیں خواہ مخواہ عاملہ میں مجلس میں جب بیٹھتے ہیں ایک اپنی چوھد راہٹ کے لئے جھگڑا کرتا ہے دوسرا اپنی چوھد راہٹ کے لئے اور جماعت کی چوھد راہٹ کی پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ اس کی پگڑی پارہ پارہ ہو کر بکھر گئی ہے، اس کی عزت خاک میں مل گئی ہے۔اپنی عزتوں کا خیال ہوتا ہے۔جہاں بھی مجلس عاملہ کے ممبر آپس میں لڑیں گے وہاں جماعت پر نہایت بے ہودہ اثر پڑتا ہے خواہ باقی جماعت اکٹھی بھی ہو اور ترقی کی را ہیں وہاں پر بند ہو جاتی ہیں اور جماعت کا وقار ذلیل ہو جاتا ہے۔اس لئے اس قسم کے اختلافات کو بھی ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ غیر معمولی توجہ کے ساتھ ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر جماعت کے اندر بعض طبقات ہیں یعنی چھوٹے گروہ بعض دوسرے چھوٹے گروہوں سے متصادم ہو جاتے ہیں ، ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں اور خواہ خواہ ان کی وجہ سے ہمیشہ جماعت میں بدمزگی اور چپقلش رہتی ہے۔ہر قسم کے اختلاف کو ہمیں مٹانا ہے۔ایک امت واحدہ بننا ہے تب دنیا کو امت واحدہ بنا سکیں گے اور اس کے لئے بنیادی اصول جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بیان فرمائے ہیں ان کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اختلاف سے نجات تو ممکن نہیں ہے۔جس طرح میں نے کہا تھا دکھا وہ تو کرنا ہی ہے اگر خدا کو نہیں دکھائیں گے تو دنیا کو دکھانے لگ جائیں گے۔اسی طرح اختلاف سے بھی کوئی نجات نہیں ایک فطری حصہ ہے انسان کا اس نے اختلاف کرنا ہے اس سے ترقی ہوتی ہے اس کو لیکن آنحضرت ﷺ نے صرف ایک قسم کے اختلاف کی اجازت دی ہے اختلاف سے منع نہیں فرمایا۔فرمایا:۔