خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 545

خطبات طاہر جلد ۶ 545 خطبه جمعه ۴ ۱اراگست ۱۹۸۷ء ان کو دین سے محبت ضرور ہے مگر کمزور ہے، ان کو آگے لایا جائے اور ان کے اوپر ذمہ داریاں ڈالی جائیں۔جن جماعتوں میں اس طرف توجہ دی جاتی ہے وہاں حیران ہو جاتا ہے انسان یہ دیکھ کر کہ کثرت سے لوگ نکلنے شروع ہو جاتے ہیں ، بڑی برکت پڑتی ہے اس کام میں۔چنانچہ میں نے انگلستان کی مثال بار ہادی ہے جب میں یہاں آیا تھا اس سے پہلے چند گنتی کے چہرے تھے وہی ہر کام میں بار بار سامنے آنے والے تھے اور جو کام ہوتا تھا بالآخر ان کے ذمے ڈال دیا جاتا تھا لیکن اب کئی گنا زیادہ ، کوئی نسبت ہی نہیں رہی۔ایسے نوجوان، ایسے بوڑھے، ایسے مرد ، ایسی عورتیں کاموں میں آگے آگئے ہیں کہ پہلے ان کے متعلق واہمہ بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ یہ خدمت دین کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں سے پھر ایسے اچھے اچھے چمکے ہیں بعض جو پہلوں سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔زمینداری میں بھی میں نے یہی دیکھا ہے بعض دفعہ جن زمینوں کو چھوڑا جاتا ہے جب ان کی اصلاح کی جاتی ہے تو اتنا پھر پھل دیتی ہیں کہ جن کو ہم پہلے اچھی زمینیں سمجھا کرتے تھے ان سے بھی بہت آگے بڑھ جاتی ہیں۔تو جماعت میں خدمت دین کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ایک تو خوشخبری ہمیں بہر حال مل چکی ہے کہ فتنہ وفساد کی انتہا کے باوجود بہت شاذ وہ لوگ ہیں جن کا تیسری آیت میں ذکر کیا گیا ہے یعنی ظَالِى أَنْفُسِهِمْ - پاکستان جیسے شدید خطرناک حالات میں ایسے لوگ جو مرتد ہو گئے یا جماعت سے منہ موڑ کر چھپ گئے ، نظروں سے اوجھل ہو گئے وہ ظَالِی اَنْفُسِهِمْ ہیں۔ان کی تعداد دیکھیں گنتی کے چند لوگ ہیں۔تو یہ تو ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ابتلا میں سے جماعت کے اکثر حصے کو اس طرح گزارا کہ وہ مرے نہیں اور شدید زخمی بھی نہیں ہوئے ،معمولی کمزوریاں پیدا ہوئیں ایسی کمزوریاں جن سے خدا مغفرت کا سلوک فرمانے کا وعدہ فرمارہا ہے۔دوسری بڑی خوشخبری یہ ہے کہ ایسی زمینیں کثرت کے ساتھ موجود ہیں جو اصلاح کے لائق ہیں اور تھوڑے سے کام کے نتیجے میں بہت ہی زرخیز زمینیں بن سکتی ہیں اور انذار کا پہلو یہ ہے کہ اگر ان کی طرف توجہ نہ کی گئی ، اگر ان کو صف اول میں لانے کی کوشش نہ کی گئی تو یہی وہ زمینیں ہیں جو رفتہ رفتہ تیسری قسم میں تبدیل ہوا کرتی ہیں اور پھر کلر تھور بن جاتی ہیں پھر ان کی بحالی کی اگر کوشش کی بھی جائے تو بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔