خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 544
خطبات طاہر جلد ۶ 544 خطبه جمعه ۴ ار ا گست ۱۹۸۷ء جائے تو پھر وہ اچھی نہیں رہتی اور وہ بھی کمزور رہنے لگ جاتی ہے۔طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال دیں تو جتنا پہلے آپ حاصل کر سکتے تھے اس سے وہ حاصل نہیں کر سکتے۔آپ مثال لیں ہمیں مالی طور پر قربانی کی مسلسل پیچھے سے ضرورت پڑتی چلی آرہی ہے اللہ کے فضل سے اور جماعت بڑے شوق سے اس میں حصہ لیتی چلی جارہی ہے۔کئی امیر ہیں جو نسبتاً مالی قربانی میں پیچھے رہنے والوں کی طرف بھی توجہ کرتے ہیں۔چنانچہ جب نئی تحریکیں آتی ہیں، جب نئے قسم کے مالی قربانی کے تقاضے سامنے آتے ہیں تو ہر وقت کچھ نئے لوگ ہیں جو آگے آکر اس بوجھ میں ساری جماعت کے شریک ہوتے چلے جارہے ہوتے ہیں۔بعض امراء ایسے ہیں دوڑ دوڑ کر انہیں کے پاس جاتے ہیں جن کو مالی قربانی کی عادت ہے اور ایک دفعہ، دو دفعہ، تین دفعہ جب ان پر بوجھ ڈالتے ہیں تو چوتھی یا پانچویں دفعہ بالآخر وہ اپنے دروازے بند کرنے لگ جاتے ہیں۔گھبرانے لگ جاتے ہیں کہ اب فون آیا ہے یا اطلاع آئی ہے یا دروازہ کھٹکا ہے تو ضرور کچھ مانگنے کے لئے آئے ہونگے۔ان کے اوپر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کے نتیجے میں جماعت پر بھی ظلم کیا گیا اور ان کی ذات پر شدید ظلم کیا گیا۔اس سے پہلے وہ اخلاص کے ساتھ قربانی کرتے تھے، اس سے پہلے ان کو قربانی میں لطف آتا تھا لیکن جب طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال دیا گیا تو پہلے ان کا لطف ضائع کیا گیا یدان پر ظلم کیا گیا پھر لطف کی بجائے بدمزگی شروع ہوئی اور بوجھ کا احساس بڑھنا شروع ہوا جس کے نتیجے میں قربانی کے ثواب سے بھی وہ محروم رہ گئے۔تو اچھی زمینوں کو یہ لوگ بری زمینوں میں تبدیل کرنے والے ہوتے ہیں۔اس وقت جماعت جس دور میں سے گزر رہی ہے اس وقت ہمارے کاموں پر بوجھ بڑھنے والے ہیں۔مخالفت کے مقابلے کے لحاظ سے بھی ایک دو ملکوں کی بات نہیں رہے گی۔آئندہ چند سالوں میں یا آٹھ یا دس سال کے اندر میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں کئی ممالک ایسے ظاہر ہوں گے جہاں جماعت احمدیہ کے خوف کے نتیجے میں، اس سے ڈر کر یہ محسوس کر کے کہ یہ جماعت غالب آنے والی ہے بڑی شدید مخالفتیں ہوں گی۔وہ چند مخلصین جو اس وقت ساری جماعت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں وہ کافی نہیں ہوں گے اس وقت۔اب وقت ہے ہمارے پاس کہ ان نسبتاً غافل لوگوں کو جو خدا کے غضب کے نیچے ابھی نہیں آئے ان سے حسن سلوک کا وعدہ ابھی جاری ہے، جن کا ایمان سلامت ہے،