خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 524
خطبات طاہر جلد ۶ 524 خطبه جمعه ۷ / اگست ۱۹۸۷ء جہاں بڑے نیک عزم لے کر ہم داخل ہونے والے ہیں۔ان عزائم میں سے ایک عزم یہ تھا کہ ہم تمام بنی نوع انسان کو ملت واحدہ بنانے کے لئے ایک نمونے کی جماعت پیش کریں گے جو ملت واحدہ کا نمونہ خود ہوتا کہ دوسروں کو اسی شکل وصورت کے اوپر ملت واحدہ بننے کی دعوت دے رہی ہو۔مساجد کوملت واحدہ بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کرنا ہے کیونکہ مساجد کے اور پہلو بھی ہیں۔نمازوں کی طرف میں پہلے توجہ دلا چکا ہوں، باجماعت نماز کی طرف عبادت کا معیار بلند کرنے کی طرف اس پہلو سے میں دوبارہ اس مضمون کو نہیں دہرا تا لیکن خود مساجد کے معیار کو اور مساجد کے متعلق جماعت کے رجحان کو بھی ملت واحدہ کے مضمون سے گہرا تعلق ہے۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ آئندہ دنیا میں ہر جگہ جماعت کی مساجد صفائی اور پاکیزگی کے اعتبار سے خانہ کعبہ کے اس معیار کو اپنا نمونہ بنائیں گی۔مساجد نمونہ بنائیں گی جب میں کہتا ہوں تو مراد ہے جماعتیں ان کو نمونہ بنائیں گی تو ہماری مساجد بھی انشاء اللہ آئندہ خانہ کعبہ کے اس معیار کے نمونے پر پورا اترنے کی کوشش کریں گی جس کا اظہار اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔اور دوسرا پہلو میں دوبارہ یاد کراؤں کہ مسجد کی خدمت کے اعزاز کو ہم نے قائم کرنا ہے۔بہت سے ایسی مساجد دنیا میں ہیں جن میں کروڑوں اربوں روپیہ خرچ کیا گیا ہے اور بڑے بڑے خادم مسجد وہاں ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں کہ مسجد کے کونے کونے کو صاف اور ستھرارکھیں۔جماعت احمدیہ کی مساجد میں جو امتیاز ہونا چاہئے وہ یہ کہ دنیا کے لحاظ سے جو اونچے مرتبے پر فائز کئے گئے ہیں ان کو رزق میں فضیلت دی گئی ہے، دیگر عزتوں کے لحاظ سے جن کو اپنے دوسرے بھائیوں پر ایک اعزاز بخشا گیا ہے ، وہ مسجدوں کی صفائی میں ذاتی حصہ لینے کی کوشش کریں اور اس بات کو خاندان اپنا اعزاز سمجھیں کہ وہ وقف کرتے ہوں کہ آج کا دن ہمیں دیا جائے تا کہ ہم اس مسجد کی صفائی کریں اور بڑے اور چھوٹے کی تفریق اس معاملے میں نہ ہو بلکہ وہی بڑا ہو گا خدا کے نزدیک جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔چنانچہ اس آیت کا وہ بھی ایک رنگ میں مصداق بن جائے گا۔تو مساجد بھی مصداق بن رہیں ہوں اور مسجدوں کی خدمت کرنے والے بھی اس آیت کا مصداق بن رہے ہوں تو ایک بہت ہی پاکیزہ اور دلفریب تبدیلی جماعت کے اندر محسوس ہوگی۔