خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 514

خطبات طاہر جلد ۶ 514 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۸۷ء کوئی نقصان نہیں ہوا میں اُتر آیا آرام سے اور اس کا کہتے ہیں دوہرا فائدہ یہ ہوا کہ اگر دھکا دے کر چلتی گاڑی سے مجھے پھینکتے اور میں بچ بھی جاتا تو آدھی رات کے وقت نہایت خطرناک علاقے سے سکھر تک جو ابھی چند پانچ ، چھ میل کے فاصلے پر تھا پہنچنا ویسے ہی محال ہوتا۔( کہتے ہیں ) اب اندھیرے نے دوسرا کام یہ کیا کہ میں کچھ قدم چل کر دوسرے ڈبے میں بیٹھ گیا اور جب میں بیٹھا ہوں تو بجلی پھر آگئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے گاڑی چل پڑی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے ان کے فتنے سے بچالیا۔کلمہ طیبہ کی مخالفت یعنی بار بار میرے منہ سے کلمہ طیبہ کے لفظ نکلتے ہیں جو اصل عرب محاورہ ہے یا اسلامی پرانا محاورہ ہے وہ کلمہ توحید ہے یا کلمہ شہادہ ہے۔تو کلمہ شہادہ اور کلمہ توحید کی مخالفت کرتے کرتے اب ان علماء کا یہ حال ہو چکا ہے کہ ان کو اپنی زبان پر اختیا رہی نہیں رہا کہ ہم کیا باتیں کہہ جاتے ہیں اس مخالفت میں۔چنانچہ ایک دوست نے بڑا دلچسپ واقعہ لکھا ہے ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا سے کہ:۔ایک مولوی اور اس کے چیلے سارے شہر میں گھومتے پھرتے یہ تلاش کر رہے تھے کہ کوئی احمدی کلمہ طیبہ کا بیج (Badge) لگائے ہوئے نظر آئے تو ہم اسے پولیس کے حوالے کریں اور پھر وہ اسے مار مار کر جس کو بھی پکڑتے تھے لے جاتے تھے۔جب مجھ پر نظر پڑی تو اس کے مولوی کے ایک ساتھی نے میرے سینے سے کلمہ نوچنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو فوراً مولوی نے سختی سے اُسے روکا کہ کلمہ کو ہاتھ نہ لگا و پلید ہو جاؤ گئے۔وہ کہتا ہے اب ان کے مقدر میں کلمے کو ہاتھ لگانے سے پلیدی رہ گئی ہے اور کلمے کی ساری برکتیں یہ ہمیں اپنے ہاتھوں سے دے بیٹھے ہیں۔اور یہ جو باتیں ہیں صرف یہ عوامی سطح پر نہیں ہور ہیں با قاعدہ حکومت کے محکموں میں اس قسم کے مقدمے درج ہو رہے ہیں، اس قسم کے اعتراضات لوگوں کی فائلوں میں لکھے جا رہے ہیں۔چنانچہ ٹیکسلا سے ایک سرکاری افسر ہمارے احمدی دوست لکھتے ہیں کہ ان کے خلاف نماز پڑھنے کے