خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 511
خطبات طاہر جلد ۶ 511 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء اس نیک بندے کو تم نے سراسر ظلم کی راہ سے چکی میں بند کیا ہے اور ہم اس کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اسے چکی سے نکالو۔چنانچہ اس احتجاج کے نتیجے میں وہ سپرنٹنڈنٹ مرعوب ہو کر ان کو نکالنے پر آمادہ ہو گیا۔چونکہ اکثر قیدی سخت جرائم پیشہ ہوتے ہیں اور خصوصا سخت سزا پانے والے قیدی جو چکی کے گرد و پیش رکھے جاتے ہیں یا خود چکی میں ہی شاید وہ بھی ہوں ، وہ مزاج کے لحاظ سے بھی درشت ہوتے ہیں۔اس لئے ان کا رعب ہوتا ہے کسی نہ کسی رنگ میں جیل کے افسران پر۔پھر وہ جرائم میں شریک پیسے کھا کر ، ڈرگز وغیرہ سمگل کروانے میں ممدو معاون بنے ہوئے ہوتے ہیں۔تو کئی قسم کے ان کے ایسے تعلقات ہیں جس کے نتیجے میں ویسے تو خدا کا کوئی خوف اس شخص کے دل میں نہیں آیا مگران قیدیوں کے احتجاج کے نتیجے میں اس نے ان کی سزا میں نرمی کر دی۔ہمارے سلسلے کے ایک بہت ہی مخلص خادم اور بڑے فعال کارکن سرگودھا کے خادم حسین صاحب وڑائچ لکھتے ہیں:۔23 جون کو تقریباً پونے تین بجے دوپہر ہمارے مخلص دوست مبارک احمد صاحب چیمہ سرگودھا سے جو ہر آباد جانے کے لئے بس پر سوار ہوئے۔تین موٹر سائیکل سوار غنڈوں نے ان کی بس کو روک کر ان کو بس سے اتروا لیا۔نیچے اتار کر شدید زود کوب کیا اور پھر زبردستی رکشہ میں بٹھا کر تھانے لے جانے کی کوشش کی۔ان کے پاس ایک کتا بچہ تھا وہ چھین لیا اور ۱۷۵ روپے جیب سے نکال لئے اور یہ عزم ظاہر کیا کہ ہم تھانے جا کر یہ رپورٹ درج کرائیں گے کہ تم ہمیں تبلیغ کرتے تھے۔لیکن دوسرے بس کے شریف مسافروں نے بیچ میں پڑکر ان کو چھڑا لیا اور وہ تین جو نو جوان تھے وہ اس عظیم جہاد کے نتیجے میں حاصل ہونے والا مال غنیمت ۱۷۵ روپے لے کر وہاں سے رخصت ہوئے“۔بعض جگہ سے ایسی خبریں بھی آتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شرافت بالکل مری نہیں ہے یعنی پولیس کے محکمے میں بھی کچھ لوگ نسبتا شریف النفس موجود ہیں۔چنانچہ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ:۔وه ایک دفعہ ہماری دکان پر اچانک پولیس کا ایک تھانے دار اور دو