خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 510
خطبات طاہر جلد ۶ 510 خطبہ جمعہ ۳۱ / جولائی ۱۹۸۷ء پینٹ سے کلمہ طیبہ لکھیں گے کیونکہ پولیس نے مسجد کے سامنے والی ساری دیوار کو پوری طرح سیاہ کر دیا ہے اور مسجد کی حالت بھی سیاہ تیل سے خراب کر دی ہے۔باہر کے دروازے کو تالہ لگا دیا ہے۔اب ہم جلد از جلد وہاں کلمہ طیبہ لکھوا رہے ہیں۔ہم کلمہ طیبہ کی پوری حفاظت کریں گے چاہے ہماری عورتوں کو بھی جیل جانا پڑے کیونکہ پولیس والوں نے ہمیں یہ دھمکی دے دی ہے اب ہم آپ کی عورتوں کو بھی جیل میں بھیجیں گے۔ہم اس پر پوری طرح تیار ہیں اور کلمہ طیبہ لکھتے رہیں گے اور ایک لمحے کے لئے بھی اس سے باز نہیں آئیں گے، دشمن جو کر سکتا ہے کرتا پھرے وہ ہمارے عزم اور ہمت کو پامال نہیں کرسکتا۔پیرکوٹ ثانی گوجرانوالہ میں ایک گاؤں ہے وہاں کے ایک احمدی دوست کا واقعہ بھی ہے کس طرح وقت کے علماء بالکل کھلا کھلا جھوٹ بول کر فرضی مقدمے بناتے احمدیوں پر اور پھر فرضی گواہ بناتے اور ان کو کوئی خدا خوف نہیں اور تلاش میں رہتے ہیں کہ کسی طرح کسی احمدی کو موقع ملے تو جھوٹے گواہ بنا کر اس پر کوئی مقدمہ قائم کروائیں۔چنانچہ اس وقت یہ بھی جیل میں ہیں اور جیل سے ہی اپنی داستان لکھ رہے ہیں کہ مجھ سے کیا گزری۔چنانچہ کہتے ہیں کہ :۔مولویوں نے یہ جھوٹا مقدمہ درج کرا کے کہ نعوذ بالله من ذالک میں نے حضرت اقدس محمد مصطفی امی کی بہتک کی ہے، جن پر میرا جان مال اولا دسب کچھ نچھاور ہے۔مجھے اس مقدمے میں جیل بھجوایا اور چونکہ میں جیل میں نمازیں بھی پڑھتا رہا اور تلاوت بھی کرتا رہا اور چونکہ مولویوں کے وفود پہنچ کر ساتھ کے قیدیوں کو مشتعل کرتے رہے کہ یہ اب بھی نماز میں پڑھنے اور کلمہ توحید پڑھنے سے باز نہیں آرہا اس لئے ان کی شکایت پر مجھے چکی میں بند کر دیا گیا۔(چکی وہ اندھیری کوٹھڑی ہوتی ہے جس میں موت کی سزا پانے والے قیدیوں کو پھانسی سے پہلے بند کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں ) وہاں بھی میں نمازوں سے باز نہیں آیا نہ آسکتا تھا اور بلند آواز سے تلاوت کرتا رہا جس کی آواز سن کر بعض ساتھ کے قیدیوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے شدید احتجاج کیا کہ خدا کے