خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 495

خطبات طاہر جلد ۶ 495 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء پڑتی ہے۔کچھ کمزور ہیں، کچھ دنیا میں پڑ کے غافل ہو جاتے ہیں۔بعض جگہ نئے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔نے قسم کے جذبات سے مغلوب ہو کر لوگ اپنے آپے میں نہیں رہتے اور پھر اختلافات کا بیج بو دیتے ہیں۔تو یہ وہ اہم مضمون ہے جس کی طرف بار بار وقتاً فوقتاً توجہ دلائی جانی چاہئے۔خصوصیت سے نئے آنے والے دور سے پہلے تو ہمیں بالا رادہ غیر معمولی کوشش کر کے جہاں بھی ہم نے اپنے اتحاد کو کھویا ہے اپنے کھوئے ہوئے اتحاد کو واپس لینا چاہئے۔بالعموم یہ دیکھا گیا ہے کہ اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے بعض افراد ہوتے ہیں۔ان کے مزاج میں بعض دفعہ تختی پائی جاتی ہے، بعض دفعہ خود غرضی پائی جاتی ہے، بعض دفعہ ذہنی سطح اتنی نیچے ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کو دیکھتے ہیں تو اس کی برائیاں نظر آ رہی ہوتی ہیں جب اُنہی حالات میں سے خود گزرتے ہیں تو ان کی نظر اپنے حالات کا جائزہ لینے کی اہل نہیں رہتی۔اس لئے ان کو ہر برائی دور دکھائی دیتی ہے اور یہ نظر جو ہے یہ ایسی کمزور نہیں کہ نزدیک کی چیز کو دیکھ ہی نہ سکے ، ان کو ہر خوبی اپنے اندر دکھائی دے رہی ہوتی ہے یعنی یہ ایک عجیب قسم کا بھینگا پن ہے نظر کا اور بیک وقت دور کی نظر بھی خراب ہے اور نزدیک کی بھی اور بیک وقت دور کی نظر بھی ٹھیک ہے اور نزدیک کی بھی۔تو یہ جو تضاد ہے اس تضاد کے نتیجے میں بالعموم فساد پیدا ہوتے ہیں۔کسی اور سے اور توقع ہے اپنے ساتھ سلوک کرنے میں اور جب خود سلوک کرتے ہیں اس سے تو اس توقع کے بالکل برعکس کررہے ہوتے ہیں۔لیکن ان میں بھی پھر مختلف لوگ ہیں جو ان میں سے نسبتا زیادہ خدا کا خوف کرنے والے ہیں جب ان کو ڈانٹا ڈ پٹا جائے ان کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ پھر رک بھی جاتے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو کنارے تک تو پہنچ جاتے ہیں لیکن آگ میں گرنا کسی قیمت برداشت نہیں کرتے۔جب ان کو یہ کہا جائے بالآخر کہ بہت اچھا اگر آپ اس ضد پر قائم رہیں گے تو جماعت سے باہر چلے جائیں۔اس وقت پھر وہ واپس آجاتے ہیں اور یہ اللہ کی نعمت ہے جس کے نتیجے میں ان کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے ور نہ انسانی کوششوں سے وہ واپس آنے والے نہیں ہوتے لیکن بد قسمتی یہ ضرور ہے کہ شَفَا حُفْرَةٍ ضرور دیکھنا ہے۔اس کنارے کو ضرور پہنچنا ہے جہاں پہلے وہ آگ میں گرنے والے تھے جہاں سے خدا نے ان کو بچایا تھا دوبارہ آگ میں جھانکنا ان کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے۔کچھ ایسے ہیں جو بالکل پرواہ نہیں کرتے خدا کی نعمت کا انکار کرنے والے ہیں اور اسی لئے آیت استخلاف میں ایسے لوگوں کے