خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد ۶ 486 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء تم مسلمان ہو وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اللہ کی رسی کو اجتماعی طور پر مضبوطی سے پکڑ لو وَلَا تَفَرَّقُوا اور تفرقہ میں نہ پڑو، ایک دوسرے سے الگ نہ ہو۔وَاذْكُرُ وا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُم اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر فرمائی جبکہ تم آپس میں دشمن تھے فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ وہی خدا ہے جس نے تمہارے دلوں کو آپس میں محبت کے رشتوں میں باندھا۔فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا اور یہ رشتے ایسے مضبوط تھے کہ تم اللہ کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے۔جو پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے ان میں ایک ایسا روحانی انقلاب بر پا ہوا کہ وہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور متحد ہو گئے وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا تم گویا آگ سے بھرے ہوئے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے نجات بخشی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے نشان کھول کھول کر تمہارے سامنے بیان فرماتا ہے تا کہ تم ہدایت پاؤ۔وَلَتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً اور چاہئے کہ تم میں سے ہمیشہ ایک قوم ، ایک امت لوگوں کو نیکی پر بلانے اور برائی سے روکنے پر مامور ہے وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ بي وہ لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔پہلی آیت میں حق تقیہ کا ایک تو عام مفہوم ہے کہ جیسا کہ خدا سے ڈرنے کا حق ہے ویسا اس سے ڈرو اور یہ ہر زندگی کے شعبے پر ہر انسانی سوچ پر اور ہر انسانی عمل پر حاوی ہے اور اس بات کا فیصلہ کہ خدا سے کیسے ڈرا جاتا ہے یا کیا حق ہے۔ایک پہلو سے تو ہر انسان الگ الگ اپنے اپنے علم اور اپنی اپنی عقل اور اپنے مزاج کے مطابق کرتا ہے۔جو لوگ گناہوں کے عادی ہو چکے ہوں ان کا مزاج سخت ہوتا چلا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے متعلق ان کے تقویٰ پر بھی اس کا برا اثر پڑتا ہے یہاں تک کہ ان کے نزدیک خدا سے ڈرنے کا حق سوائے چند ایک کبائر گناہ کے اور کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔جو لوگ نیکی میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں ان کے ہاں تقویٰ کا مضمون باریک راہوں میں داخل ہو جاتا ہے اور ایسی چیزیں جو بعض دوسروں کے نزدیک نیکی کہلاتی ہیں ان لوگوں کے نزدیک وہ گناہ بن جاتی ہیں اور حق تقیہ کا کچھ اور مفہوم ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھولا جاتا ہے اور یہ مفہوم ہمیشہ ترقی کرتا رہتا ہے اور ایک مفہوم دوسرے میں بدلتا رہتا ہے۔گویا اول مقام پہ جو سفر شروع کیا تھا اس مقام پر جب ان سے پوچھا جاتا کہ تقویٰ کیا ہے تو جو وہ تعریف تقویٰ کی بیان کرتے اس مقام پر