خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 483 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 483

خطبات طاہر جلد ۶ 483 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۸۷ء گھلتا رہتا ہے اور کچھ بے چارے کی پیش نہیں جاتی ، اپنے لئے بھی عذاب دوسروں کے لئے بھی عذاب، یہ کیا زندگی ہے؟ ایک با اخلاق انسان خود بھی ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے خوش رہتا ہے دوسروں کو بھی خوش کرتا رہتا ہے۔اس لئے ایسا پھول بنیں جس کے اندر رنگ بھی ہو اور خوشبو بھی ہو، اپنے لئے بھی ہو اور غیروں کے لئے بھی ہو اور اس معیار کو بلند کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو اور ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم آنے والوں کے حقوق ادا کریں اور حقوق سے بڑھ کر ادا کریں اور آنے والوں کو توفیق بخشے کہ وہ یہاں مقامی لوگوں کے اور مہمان نوازوں کے حقوق ادا کریں اور بلکہ حقوق سے بڑھ کر ان سے حسن سلوک کا معاملہ کریں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا۔نماز جمعہ کے بعد دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ادا کی جائے گی۔ایک تو ہمارے حیدرآباد کے ایک مخلص خاندان کے چشم و چراغ سیٹھ محمد معین الدین صاحب مرحوم کی اہلیہ مکرمہ محمودہ بیگم صاحبہ کی وفات کی اطلاع ملی ہے یہ دل کے دورے کی بناء پر وفات پاگئی ہیں۔یہ ہمارے سلسلہ کے ایک بہت بڑے بزرگ اور بہت ہی ایک معزز ہندوستان کے خاندان کے فرد مولانا ذوالفقار علی خان صاحب کی صاحبزادی تھیں یعنی مولا نا عبد المالک خان صاحب کی ہمشیرہ تھیں اور سیٹھ حد معین الدین صاحب جو حیدر آباد دکن کے ایک معز مخلص احمدی خاندان کے فرد تھے ان کی بیگم تھیں۔اس سے دو تین جمعہ پہلے کی بات ہے ہم نے سیٹھ معین الدین صاحب کے بڑے بھائی کی بیگم، بڑی بھا بھی جن کو ہم کہتے تھے ، ان کی نماز جنازہ بھی پڑھائی تھی۔اوپر تلے ان دو بھائیوں کی بیویاں قریباً تھوڑے وقفے سے ہی جدا ہوئی ہیں۔ان کو ہم بڑی بھا بھی کہا کرتے تھے ان کو چھوٹی بھا بھی اور دونوں کے ساتھ بچپن سے ہی ہمارے خاندان کا گہرا تعلق ، ہمارے ہاں ہی آکر جلسے میں قیام کیا کرتے تھے۔پرانے زمانے میں یہ بھی روایت تھی ابھی بھی یہاں بھی شاید چل پڑی ہوگی کہ جلسے پر جو مہمان آیا کرتے تھے وہ روایہ پھر بعض گھروں سے متعلق ہو جاتے تھے اور پہلے رشتے نہیں بھی ہوتے تھے تو یہ مہمانی کا رشتہ اتنا زیادہ بڑھ جاتا تھا کہ خون کے رشتوں کی طرح معزز ہو جاتا تھا اور قریبی ہو جاتا تھا اور بہت سے خاندان ایسے تھے جن کے ساتھ ہمارے تعلقات محض جلسے کی مہمان نوازی کی وجہ سے قائم رہے اور پھر ہمیشہ جاری رہے۔