خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد ۶ 429 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۸۷ء وقت ہوتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حقیقۂ عارف باللہ تھے۔آپ کو خدا یہ عرفان عطا فرما رہا تھا۔آپ نے فرمایا کہ یہ اس لئے ہوتا ہے ابتلا تا کہ معرفت کے باریک اور دقیق سکتے ان کو سمجھائے جائیں اور اس وقت جماعت جس دور میں سے گزر رہی ہے میں جانتا ہوں کہ بعینہ یہی واقعہ جماعت کے ساتھ گزر رہا ہے۔یہی سنت اللہ ہے جو قدیم سے خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔پھر فرمایا:۔زبور میں حضرت داؤد کی ابتلائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح کی غریبانہ تضرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں۔یہ جو الفاظ ہیں ان دونوں میں ایک مضمون آپ نے باندھا ہے عاجزانہ اور غریبانہ کے الفاظ کے ساتھ۔فرمایا دیکھو! داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی ابتدائی حالت میں جوز بور میں ان کے گیت ہمیں ملتے ہیں ان میں عاجزانہ نعرے پائے جاتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کے اس تکلیف اور ابتلا کے دور میں ان کی تضرعات میں ایک غریبانہ رنگ پایا جاتا ہے۔اگر چہ خدا کے انبیاء اور وہ سب جن کو خدا تعالیٰ عرفان عطا فرماتا ہے عاجز ہی ہوتے ہیں اور غریب ہی ہوتے ہیں مگر ابتلا کے وقت میں اپنے بجز اور غربت پر ان سے بڑھ کر اور کون واقف ہو سکتا ہے؟ اس سے پہلے ان کی عاجزی اور ان کی غربت ابتلا کے بغیر ایک نظریاتی دائرے سے تعلق رکھنے والا عجز ہے، ایک نظریاتی دائرے سے تعلق رکھنے والی غربت ہے لیکن جب ابتلا کے دور سے وہ لوگ گزرتے ہیں تو جانتے ہیں کہ ہم واقعہ غریب ہیں۔خوب پہچان لیتے ہیں کہ ہم واقعہ عاجز ہیں خدا کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے جو ہمیں بچا سکے۔اس وقت ان کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔عاجزانہ نعرے ان کا نشان بن جایا کرتے ہیں۔یہاں لفظ عاجزانہ نعرے بھی بہت ہی ایک عظیم الشان فصاحت و بلاغت کا کرشمہ ہے۔نعرے کے ساتھ تو فتح کا مضمون باندھا جاتا ہے۔عجز کے ساتھ نعرہ کیسا؟ لیکن وہ لوگ جو جانتے ہیں بعض دفعہ ملنگ ، ایسے ملنگ نہیں جو جھوٹے بنے ہوں بلکہ حقیقت