خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد ۶ 397 خطبہ جمعہ ۱۲ جون ۱۹۸۷ء امریکہ میں داخل کرتا ہوگا لیکن بالعموم تو امریکہ سے ہی گندگی آتی ہے اور ساری دنیا میں پھیلتی ہے اور بڑی خوشی سے انہیں قبول کر رہے ہیں۔پھر ایک دوسرے سے بدیاں سیکھتے ہیں۔جو اٹلی میں بدی ایجاد ہو گئی وہ یورپ کے باقی ممالک نے بھی ضرور اختیار کرنی ہے، جو انگلستان میں پیدا ہوئی اسے بڑے شوق سے پھر باقی ملک بھی نقل کرتے اور اختیار کرنے لگ جاتے ہیں۔تو جو قوم پہلے ہی بیچاری اس حال کو پہنچ رہی ہو کہ ان میں بھی یہ رجحان پیدا ہو جائے کہ وہ بدیاں اختیار کرتے ہیں آسانی کے ساتھ اور شوق کے ساتھ۔اوپر سے آپ ان کو اپنی بدیاں پہنچانے لگ جائیں تو یہ سارا زمانہ یقیناً بڑا گھاٹے کا زمانہ ہوگا۔قرآن کریم نے اسی طرح اس زمانے کا ذکر فرمایا ہے، قرآن کریم نے یہی تو کہا ہے: وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ (الحصر :)))) کہ میں زمانے کی قسم کھا کر کہتا ہوں اِنَّ الإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان بحیثیت مجموعی گھاٹے میں جار ہا ہو گا۔یہ بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مگر ذرا سوچیں کہ اس کے بعد قرآن کریم کیا فرماتا ہے إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مگر زمانے ہی کی قسم کچھ لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو ایمان لانے والے ہوں گے اور نیک عمل کرنے والے ہوں گے۔وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبرِ وہ نیک کاموں کی نصیحت کرتے چلے جائیں گے زمانے کو اور صبر کے ساتھ نیک کاموں کی نصیحت کرتے چلے جائیں گے ، نیک اعمال کے ساتھ نیک کاموں کی نصیحت کرتے چلے جائیں گے۔اگر آپ وہ نہیں ہیں تو پہلی پیشگوئی تو پوری ہوگئی اس دوسری پیشگوئی کو پورا کرنے والے اور کون لوگ ہوں گے؟ قرآن کریم کے اس بیان کی صداقت پر آپ گواہ ٹھہرائے گئے ہیں۔آپ ہی ہیں جن کا ذکر ہے کہ اِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا ہاں! چند ایک ایسے لوگ ہیں جو ایمان لے آئے ہیں اور اپنی ایمان کی صداقت میں اس کے ثبوت میں انہوں نے نیک اعمال شروع کر دیئے اور پھر نیک اعمال کو اپنے تک نہیں رکھتے ، اس صداقت کو اپنے تک صرف نہیں رکھتے بلکہ بڑی سخاوت کے ساتھ تمام دنیا میں تقسیم کرنے لگ جاتے ہیں وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ حق بات کی نصیحت کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں، صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں۔