خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد ۶ 376 خطبه جمعه ۵/ جون ۱۹۸۷ء ہے۔لیکن اس سال اس راہ میں کچھ مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔کئی ممالک میں بعض آسمانی آفات کی وجہ سے مالی طور پر وقتیں پیدا ہوئیں اور اس کے علاوہ صد سالہ جوبلی کے قرب کی وجہ سے جو گزشتہ سال میں نے تحریک کی تھی کہ آئندہ سال خصوصیت کے ساتھ صدسالہ جو بلی کے بقایا ادا کئے جائیں وہ اتنا بڑا مالی بوجھ ہے، بوجھ کا لفظ تو مناسب نہیں ہو گا ، اتنی بڑی مالی ذمہ داری اور مالی ذمہ داری کا اعزاز ہے کہ اگر وہ بھی پورا کیا جائے اور پھر اس سال کے چندے بھی ادا کئے جائیں تو ایک بہت ہی زیادہ مالی ذمہ داری جماعت کے اوپر پڑ جاتی ہے۔ان امور پر غور کرتے ہوئے میں یہ سوچتا رہا کہ جماعت کو اس معاملے میں کیسے تحریک کروں جبکہ یہ جانتا ہوں کہ وہ مخلصین جو پورے اخلاص اور صداقت کے ساتھ اس عہد پہ قائم رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں مالی لحاظ سے ان پر عائد کی ہیں جو کچھ بھی ہو سکے وہ کر گزریں گے اور ان ذمہ داریوں کو ضرور ادا کریں گے۔ان کو جب دوبارہ تحریک کی جائے تو ان کی مجبوریوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسان یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ ان کے دل پر اس سے کیا گزرے گی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بہت سے مخلصین کا ایسا طبقہ بھی ہے جو ہر آواز پر لبیک کہنے کی بے قرار تمنا رکھتا ہے اور کامل خلوص کے ساتھ ہر قربانی کی آواز پر لبیک کہنا چاہتا ہے اور اپنے عہدوں کو اعمال میں بدلنا چاہتا ہے، اعمال میں تبدیل کرنا چاہتا ہے یعنی اعمال کے ذریعے اپنے عہدوں کی صداقت کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ایسے طبقات تک جب یہ آواز پہنچتی ہے تو کچھ ان میں سے ایسے ہیں جو اپنی مجبوریوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں لیکن وعدے پورا کرنے کی استطاعت نہیں پاتے۔کچھ ایسے ہیں جو استطاعت اس حال میں پاتے ہیں کہ غیر معمولی قربانی ان کو دینی پڑتی ہے اور اپنے اعزاء اور اقرباء کی جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان سے ان کا حق چھین کر ان کو جماعت کی طرف منتقل کرنا پڑتا ہے۔اس کے باوجود چونکہ میری ذمہ داری ہے اور جماعت کو وقتا فوقتا نیکیوں کی طرف بلا نا اور ان کی یاد دہانی کرواتے رہنا میرے فرائض منصبی میں داخل ہے اس لئے میں اس موضوع پر کچھ کہنے پر بہر حال مجبور ہوں۔لیکن غور کے بعد کچھ خاص پہلو میں نے آج چنے ہیں جن کے متعلق میں آپ کو یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں۔ایک بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے بار ہا تجربہ کیا ہے کہ جب بھی مالی امور سے متعلق تحریک کی جاتی ہے تو بالعموم وہی طبقہ آگے آتا ہے جو پہلے بھی مالی قربانیوں میں آگے ہے اور وہ