خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 356

خطبات طاہر جلد ۶ 356 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء اسی طرح افریقہ میں میں نے دیکھا ہے وہاں جھوٹ کی بہت کم عادت ہے جو بھی مجھے خطوط ملتے رہتے ہیں بڑی سادگی کے ساتھ اپنی ساری باتیں بیان کرتے ہیں کھل کے اور جو جرم ہے وہ کہتے ہیں ہاں ہم نے یہ کیا، یہ یہ کرتے ہیں۔جو سچی بات ہے وہ اسی طرح کھل کے بیان کرتے ہیں یا میں نہیں جانتا کہ باقی معاشرے میں بھی یہ حال ہے لیکن افریقہ کے احمدیوں کا جہاں تک تعلق ہے میں بڑے حد تک وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان میں سچائی کی عادت ہے لیکن پاکستان ، ہندوستان اور اسی طرح بعض دیگر ممالک ایسے ہیں جن کے معاشرے میں جھوٹ رچ بس گیا ہے۔بچپن سے مائیں گویا دودھ میں جھوٹ پلا رہی ہوتی ہیں۔ماں باپ بے تکلفی سے گھر میں جھوٹ بولتے ہیں اور روزمرہ بچے کو جھوٹ کی تربیت دے رہے ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں چالا کی ہے یعنی جھوٹ کے ذریعے کچھ حاصل کر لینا یہ ہوشیاری اور ذہن کی برتری ہے حالانکہ حد سے زیادہ جہالت اور بے وقوفی ہے۔کریکٹر تباہ ہو جاتا ہے ، انسان کسی کام کا بھی نہیں رہتا نہ دین کا رہتا ہے نہ دنیا کا رہتا ہے۔ایسا ذلیل گناہ ہے کہ اگر آپ غور کریں تو ہر گناہ ہر بدی کی جڑ جھوٹ کے اندر داخل ہے اور جھوٹے کی دعا مقبول نہیں ہوگی۔جھوٹا اپنے آپ سے جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے اس بیچارے کو پتا ہی نہیں لگتا کہ میں کیا ہوں۔اپنے متعلق فرضی باتیں نیکی کی سوچ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں بڑا ٹھیک کام کر رہا ہوں۔اتنا ظلم ہے جھوٹ کے اندر اتنی تاریکی ہے کہ قرآن کریم نے اسی لئے سب سے زیادہ جس بُرائی کو مردود قرار دیا ہے وہ جھوٹ ہے اسے شرک بھی قرار دیا ہر طرح سے اس کے خلاف جہاد کیا اور اس کے متعلق یہاں تک فرمایا کہ یہ ہے ہی کوئی چیز نہیں اس کے اندر وجود کی کوئی بھی صفت نہیں پائی جاتی۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بی اسرائیل: ۸۲) جھوٹ میں بزدلی بھی ہے، جھوٹ میں ظلمتیں بھی ہیں جھوٹ میں کوئی بھی باقی رہنے والی صفت موجود نہیں۔خودمٹتا ہے مراد یہ ہے کہ قوموں کو مٹا دیتا ہے جو جھوٹ کی حامل قو میں ہوتی ہیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں۔اس لئے جھوٹ سے پر ہیز تو انتہائی ضروری ہے۔جہاں آپ اپنے دوستوں کو جھوٹ بولتا سنتے ہیں بعض دفعہ آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ مذاق کا جھوٹ ہے ہلکی بات کی ہے۔ہرگز یہ نہ سمجھیں۔جھوٹ کو تو کسی قیمت پر برداشت نہ کریں۔آج کل الرجیز (Alergies) کا زمانہ ہے یعنی الرجیز دریافت