خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 349

خطبات طاہر جلد ۶ 349 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء کے لائق نہیں رہتے سب کچھ ان کا تباہ ہو جاتا ہے۔بہت بڑے بڑے ممالک میں چونکہ اقتصادی معیار بہت بلند ہوتا ہے اس لئے ان کی اقتصادیات پر گہرا اثر پڑتے پڑتے وقت لگتا ہے لیکن جو غریب ممالک ہیں ان پر تو بد اثرات بہت تیزی سے ظاہر ہونے لگ جاتے ہیں۔تو صرف اس ایک پہلو کو آپ دیکھ لیں تو عالم اسلام کے بہت بڑے حصے کو شدید خطرہ لاحق ہے اور بہت بڑا حصہ اس خطرے سے عملاً دو چار ہو چکا ہے۔سفا کی اور ظلم ویسے ہی زیادہ پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بظاہر ایک ملک اسلامی بن گیا ہے بظاہرنعرے اسلامی ہو گئے ہیں ، ان کے ریڈیو مسلمان ہو گئے ان کی ٹیلی ویژن مسلمان ہو گئیں، ان کے اخبارات مسلمان ہو گئے ، سب عنوان مسلمان ہو گئے ہیں لیکن واقعہ اگر آپ دیکھیں تو بد دیانتی اور ظلم دن بدن حدود سے تجاوز کرتے چلے جارہے ہیں۔پہلے بھی یہ ظلم کی کیفیت تھی وہ اچھی نہیں تھی اور خدا کے عذاب کو بلانے والی تھی لیکن اب تو بعض جگہ اتنی خطرناک حالت ہو گئی ہے کہ بعض مثلاً پاکستان کے علاقوں سے جو مجھے خط آتے ہیں بہت ہی ہولناک ہیں۔کہتے ہیں پہلے زمانے میں تو پولیس مقدمے درج کیا کرتی تھی اور یہ ڈراوا دے کر کہ ہم تمہارے خلاف یہ جھوٹا مقدمہ درج کرلیں گے ہمیں پیسے دو، پیسے بٹورہ کرتی تھی۔بڑا ظلم ہے جھوٹ اور سفا کی ہے سب کچھ ہے لیکن اب ایک اور قباحت پیدا ہوگئی ہے۔اب یہ کہ جس کو الزام لگا کر پکڑتے ہیں اس کو شدید Torture کرتے ہیں اور Torture کی حالت میں اُس سے فون کرواتے ہیں رشتہ داروں کو کہ اگر تم نے اس شخص کو بچانا ہے تو اتنے پیسے دے دوورنہ ہمارے ہاتھ تمہارا ایک مجرم آیا ہوا ہے اس کو ہم نہ صرف یہ کہ مقدمہ کر کے خراب کریں گے مگر مقدمے سے پہلے پہلے جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے ہم اس کے خلاف کریں گے اور بعض خطوں سے پتا چلتا ہے کہ قریباً نیم پاگل کر کے انہوں نے مقدمہ اس وقت دائر کیا پولیس نے جب غریب رشتہ دار پیسے نہ دے سکے، مقدمہ بھی دائر کیا لیکن اس سے پہلے Torture کر کر کے اس کو نیم پاگل بنا کے چھوڑ دیا۔تو جس ملک میں ظلم اس حد تک پہنچ چکا ہو وہاں آپ کی دعائیں بھی کیا کریں گی پھر کیونکہ بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے لئے خدا کی رحمت نازل نہیں ہوا کرتی۔بعض جرم ایسے ہیں جن کے نتیجے میں آپ مغفرت کی توقع ہی چھوڑ دیتے ہیں اور مظلوم کی آہ رسا ایک ایسی آہ ہے جس کے قبول