خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 342 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 342

خطبات طاہر جلد ۶ 342 خطبه جمعه ۱۵ارمئی ۱۹۸۷ء کے کہ لوگ آئیں اور انگلی اٹھا ئیں آپ کے نفس کی انگلی ہر دکھتے ہوئے مقام پر پڑ کر بتا رہی ہو کہ تمہارا نیکی کے لحاظ سے یہ دکھتا ہوا مقام ہے اور یہ دُکھتا ہوا مقام ہے۔اس مقام کی فکر کرو۔اور اس مقام کی فکر کرو ہم اس تحسین کے عمل میں داخل ہو رہے ہیں اور انشاء اللہ اس عمل میں ہمیشہ داخل رہیں گے اور آگے بڑھتے رہیں گے۔دشمن کو ایذارسانی اور گالیاں اور نا پاک کلام کے چسکے پڑ رہے ہیں وہ رمضان میں بھی باز نہیں آرہا اسی طرح آگے بڑھتا چلا جارہا ہے تو آپ کا کیا نقصان ہے؟ اس کا اپنا ایک لائحہ عمل ہے جو اسے پسند ہے،اسے اختیار کرنے دیں اُس کو اس راہ پر جانے دیں۔اتنی غیر معمولی تکلیف محسوس نہ کریں ان گالیوں کی گویا آپ کا سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہا۔بے چین ہو گئے ، بے قرار ہو گئے کہ اب کیا ہو گا۔ان کو گالیاں دینے دیں۔گند بولنے دیں اُنہوں نے اپنے لئے لذتوں کی ایک راہ تلاش کر لی ہے۔آپ نے اپنے لئے لذتوں کی ایک راہ تلاش کی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کی لذتیں بہت اعلیٰ درجہ کی ہیں، نیکیوں اور پاکیزگیوں اور روحانیت کی اعلیٰ لذات ہیں ان کے مقابلہ میں آپ ان لذتوں کو کس طرح قبول کر سکتے ہیں اس کا تصور بھی آپ کے لئے بھیانک ہو جانا چاہئے۔اس لئے آپ بہتر ہیں۔بظا ہر دشمن غالب ہے لیکن خدا کی تقدیر نے فیصلہ کیا ہے کہ نیکیوں کو ضرور بدیوں پر غالب کر کے دکھائے گا۔پس اپنی نیکیوں میں ترقی کرتے چلے جائیں اور اپنی تقدیر کو خدا کے حوالے کر دیں۔اُس پاک ذات کے حوالے آپ کی تقدیر ہوگی تو کبھی اُس میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوگی۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج جمعہ کے معا بعد نو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔سب سے پہلے بہت ہی درد ناک حادثاتی موت کی اطلاع دیتا ہوں سلمان الحق خاں صاحب کی جو احسان الحق خاں صاحب ایڈووکیٹ کوئٹہ کے نئے منتخب امیر ہیں ان کے بیٹے تھے خود بھی قائد خدام الاحمدیہ تھے۔بہت ہی مخلص فدائی مشکل وقت میں بڑی بہادری کے ساتھ جماعت کی خدمت پر چوکس رہنے والے تھے۔مکرم میاں محمود احمد صاحب جو میاں بشیر احمد صاحب ایم۔اے مرحوم کے داماد تھے اُن کے بیٹے میاں مسعود احمد صاحب دونوں نوجوان ( سلمان الحق ، مسعود احمد ) ایک پکنک پر گئے ہوئے تھے