خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 341
خطبات طاہر جلد ۶ 341 خطبہ جمعہ ۱۵ رمئی ۱۹۸۷ء ہوئی کہ باوجود اس کے کہ بعض معاملات میں اہل ربوہ کے متعلق بعض کمزوریوں کی اطلاع بھی ملتی رہی اور طبیعت بڑی فکرمند تھی لیکن نماز کے متعلق مجھے بتانے والوں نے بتایا کہ مسجد میں دیکھ کر دل خوش ہو گیا کہ بھری ہوئی تھیں۔لیکن مجھے علم ہے کہ ابھی بھی ایک بڑی تعداد وہاں ایسی ہوگی بڑی تعداد سے مراد یہ ہے کہ خاصی تعداد ایسی ہوگی جو اگر مسجدوں میں جانے کی کوشش کرتی تو مسجدوں میں جگہ نہ ملتی۔دیکھنے والا یہ نہ کہتا کہ مسجد میں بھرتی ہوئی تھیں وہ کہتا کہ مسجدوں کے باہر کے صحن بھی بھرے ہوئے تھے صحنوں سے باہر بھی لوگ گلیوں میں نماز پڑھنے والے تھے کیونکہ کسی شہر کی مسجدیں فی الحقیقت اس شہر کی آبادی کیلئے کافی نہیں ہوا کرتیں۔کسی شہر کا آپ جائزہ لے لیں سوائے اس کے کہ پرانے کھنڈر شہروں کی بات چل رہی ہو جہاں مسجدیں تو باقی ہیں اور نمازی کوئی نہیں ہے۔بالعموم یہی دیکھا گیا ہے کہ مسجدوں کی گنجائش اہل شہر کی آبادی سے کم ہوا کرتی ہے اور رمضان مبارک میں اگر سارے نماز پڑھنے لگیں تو مسجدوں سے نمازیوں کی تعدادا چھل کر کناروں سے باہر نکل کر دور دور تک پھیلی ہوئی دکھائے دے۔اگر یہ نہیں نظر آتا تو لازما کچھ لوگ ایسے باقی رہ گئے ہیں جنہوں نے رمضان کے باوجود بھی مسجدوں کی طرف رخ نہیں کیا۔ان کی طرف توجہ دینے کے لئے ایک الگ مہم کی ضرورت ہے۔مگر اس وقت میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو گھر میں آگئے ہیں خدا کے جن کو رمضان لے آیا ہے کشاں کشاں وہ اپنے لئے یہ کوشش تو کریں کہ اب اس تعلق کو دائمی بنالیں۔اور یہ کوشش دعا کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور دعا بھی وہ جو انسان اپنے لئے کرے۔اگر اپنے لئے کوئی دعا نہیں کرتا نیکی کی تو دوسرے کی دعا اس کے لئے فائدہ نہیں پہنچایا کرتی۔پس ساری جماعت من حیث الجماعت ساری جماعت کے لئے دعا کرے اور ہر شخص اپنے لئے یہ دعا کرے اور دعا کے لئے اس سے بہتر اور کونسا وقت ہے کہ ہم عین رمضان کے وسط سے منجدھار میں سے گزر رہے ہیں اور دن بدن اُس دور میں داخل ہونے والے ہیں، قریب آرہے ہیں جو خاص دعاؤں کی مقبولیت کا زمانہ ہے۔اس لئے اس بات کی طرف خصوصیت سے توجہ کریں کہ خدا ہماری نیکیوں کو دوام بخش دے اور ہم سے الگ ہونے والی کمزور یوں کو اجازت نہ دے کہ دوبارہ ہم پر قبضہ کر لیں۔درد دل سے اپنے لئے اپنی اولاد کے لئے اپنے گردو پیش کے لئے دعا کریں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک باشعور انسان کے طور پر خود اپنا نفسیاتی تجزیہ کریں۔بجائے اس