خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 267
خطبات طاہر جلد ۶ 267 خطبہ جمعہ ۷ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء کی بات ہے وبان بیلیم میں مقامی بیجین احمد یوں سے میں نے گفت و شنید کی تو ان کو اس طرف متوجہ کیا اور اسی مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے میں نے بعض باتیں ان کے سامنے کھولیں جو میں آپ کے سامنے بھی کھولنا چاہتا ہوں۔خدا سے دعا مانگنے والے بندے مختلف انواع کے بندے ہوتے ہیں مختلف قسموں کے لوگ ہیں۔کچھ ایسے ہیں جن پر جب تک انتہائی مصیبت کا وقت نہیں آتا وہ خدا سے دعا مانگنے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔شدید بیقراری پیدا ہو جائے ، غرق ہورہے ہوں، کینسر نے گھیر لیا ہو، مررہے ہوں یا اسی قسم کی کوئی اور نا گہانی مصیبت یا پرانی بیماری بڑھتے بڑھتے نا قابل علاج ہو چکی ہو۔جب ایسی مشکلات کا سامنا آتا ہے تو پھر وہ خود بھی دعا کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی دعا کے لئے لکھتے ہیں یعنی ضرورت بھی وہ ہو جو حد سے بڑھ جائے وہ خدا کی یاد دلاتی ہے۔اور کچھ ایسے ہیں جو وقتاً فوقتاً ضرورت کے وقت خدا کو یاد کرتے رہتے ہیں اور ضرورت پورا ہونے پر بھلا بھی دیتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے ہیں جو ضرورت سے بے نیاز اپنے رب سے پیار کا تعلق رکھتے ہیں۔خدا ان کی زندگی کا جزو بن چکا ہوتا ہے وہ اس کے بغیر رہنے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ان تینوں گروہوں کی حالتیں مختلف ہیں۔پہلا گر وہ جو ہے وہ تو اس قسم کا نظریہ رکھتا ہے کہ میں تجھے اس وقت یا دکروں گا جب اور کوئی چارہ ہی نہیں رہے گا اور اس سے ادنیٰ حالت میں تجھے یاد کر نے کا کوئی سوال نہیں۔جب ہر بات ہر طاقت مجھے چھوڑ دے گی جب کوئی اور سہارا باقی نہیں رہے گا پھر میں تجھے یاد کروں گا لیکن اس طرح سے آزماؤں گا اگر تو نے میری بات مان لی تو میں تیری عزت کروں گا اگر نہیں مانی تو تجھے سوسو گالیاں بھی دوں گا کہ تو کہاں سے خدا بنا پھرتا ہے۔میں نے تو اتنی حد کر دی ، ماتھا رگڑا ہنتیں کیں اور تو نے بات ہی نہیں سنی میری دعاؤں کے ہوتے ہوئے میرا فلاں دوست مر گیا ، میں فلاں مصیبت کا شکار ہو گیا، میرا قرضہ نہیں اترا، یہ نہیں ہوا وہ نہیں ہوا اور تو عجیب خدا ہے اس لئے میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ان کی دعا حقیقت میں چیلنج کا رنگ رکھتی ہے ایک مقابلے کا رنگ رکھتی ہے، ایک بغاوت کا رنگ رکھتی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدا کو جب بھی یاد کریں ایک نوکر کے طور پر یاد کریں، ایک ادنی غلام کے طور پر یاد کریں اور وہ بھی روزمرہ بلانے والا نو کر نہیں ایسا نو کر جو کہیں دور بٹھایا گیا ہو جس کی شکل دیکھنا بھی انسان عام حالات میں گوارا نہ کرتا ہو لیکن کبھی ضرورت مجبور کر دے کہ ہاں اسے ضرور بلایا جائے