خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 257
خطبات طاہر جلد ۶ 257 خطبه جمعه ۰ ا ر ا پریل ۱۹۸۷ء میں جماعت پر کیا مزید ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔بہر حال آج تو حمد وثنا کا دن ہے خاص طور پر اور خوب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اور بھی ان راہوں کو وسیع کردے۔آج بھی خدا کے فضل سے ساتھ ایک بہت ہی اہم مسلمان لیڈر سے ملاقات ہے جو کسی پہلو سے بھی اپنی اہمیت میں پیچھے نہیں ہیں تو ان کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تو فیق عطا فرمائے کہ اس رنگ میں ان کے سامنے نقطۂ نگاہ پیش کر سکوں کہ ان کے ذریعے بھی ہمیں بڑی بڑی وسیع قوموں میں احمدیت کا پیغام پہنچانے کی توفیق ملے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: اس سے پہلے ذہن اس طرح تھا جو خطبہ میں بیان کرتا رہا ہوں اس لئے از خود پڑھتا رہا ہوں وہ دعائیں ذہن اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ خوشخبریوں میں پھنسا ہوا تھا۔اس لئے دو دفعہ زبان بہکی اور دوسری طرف چلنے لگی۔دو خطبوں کے درمیان چند ایسے وفات شدہ دوستوں کے جنازے کا اعلان کرنا تھا جن کی نماز جنازہ ابھی انشاء اللہ غائبانہ نماز جنازہ جمعہ کے بعد ہوگی۔ایک تو ہمارے بہت ہی مخلص انڈونیشیا کے دوست تھے جو ساؤتھ سولا والسی کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے اور ایک علاقے کے جماعت کے سیکرٹری تبلیغ تھے بڑے مخلص ، فدائی احمدی مکرم عمر عبداللہ صاحب ان کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔دوسرے ہماری جماعت انگلستان کے ایک مخلص جو انصار میں ہیں۔شمیم احمد خان صاحب جو نائب زعیم اعلیٰ یو کے ہیں اور مکرم نعیم احمد خان صاحب ان کے بھائی کراچی میں ہیں۔ان کے والد سلسلہ کے بڑے پرانے بزرگ تھے، بہت ہی فدائی اور عاشق ان کی بھی اطلاع ملی ہے وفات کی۔اسی طرح ہمارے ایک اسیر راہ مولیٰ ملک محمد دین صاحب جو بڑی عمر کے ہیں اور اس وقت ساہیوال جیل میں ہیں ان کی بیگم کی وفات ہوئی مکرمہ حفیظ بیگم صاحبہ کی سابق ریٹائر ڈ انسپکٹر پولیس تھے۔لیکن جہاں احمدیت کی دشمنی آجائے وہاں یہ باتیں اپنا اثر نہیں دکھاتیں۔بڑی تگ و دو کے بعد ان کے لئے تین گھنٹے کی اجازت ملی جیل سے وہ ہتھکڑیوں میں گھر میں اپنی بیوی کا منہ دیکھ لیں آخری دفعہ انکی بھی وفات کی بڑی دردناک اطلاع ہے۔اس لئے ان کی بھی نماز جنازہ غائب جمعہ کے معا بعد ہوگی۔ایک اور ہمارے سلسلے کے معروف دوست ایک لمبے عرصے سے امریکہ میں بیماری کے دن