خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 19

خطبات طاہر جلد ۶ 19 خطبہ جمعہ ۲/جنوری ۱۹۸۷ء سب کے دل میں گزرنے والے جذبات کا مزہ آسمان پر عرش پر خدا اٹھانے لگے۔اور وہ کہے اے میرے بندو! میری تم پر تحسین اور پیار کی نظر ہے جو کچھ تم دے رہے ہو میں سب قبول کرتا ہوں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔کچھ نماز جنازہ غائب کے اعلانات ہیں سب سے پہلے تو یہ خبر جماعت کو میں افسوس سے سناتا ہوں ہمارے ایک بہت ہی مخلص خادم دین سالکین صاحب جو جماعت احمد یہ سنگا پور کے امیر تھے وہ وفات پاگئے ہیں کل صبح۔دل کے مریض تھے اس کے باوجود جماعت کا کام کرتے رہے، تو دل کا ہی دورہ ہوا دوبارہ یعنی دل کی حالت بڑی دیر سے زخمی حالت تھی اور کسی وقت بھی ان کو خطرہ تھا لیکن وہ کام سے نہیں رکے کبھی۔ایک دفعہ ان کی بچی کار بوہ میں خط آیا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کا حال کیا ہے اور کئی دفعہ ہم سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کام ذرا تھوڑا کر لیں اگر چھوڑ نہیں سکتے۔انہوں نے لکھا ہے کسی قیمت پہ تیار ہی نہیں ہوتے ، وہ کہتے ہیں جماعت کا کام میں نہیں چھوڑ سکتا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ توفیق دی جس مسجد بنانے کی انکی تمنا تھی بڑی دیر سے، وہ مکمل ہوئی اور بڑی خوبصورت مسجد تیار ہوئی ، پھر اس کو دیکھا، استعمال کیا ، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اور برکتیں دیں جماعت کو تبلیغ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو بڑی دیر سے رکا ہوا تھا۔تو ایک کامیاب زندگی گزار کہ وہ رخصت ہوئے ہیں لیکن اتنی عمر نہیں تھی کہ جس پر انسان سمجھے کے رخصت ہونے کی عمر آ گئی تھی۔اگر یہ دل کی بیماری نہ ہوتی یا اللہ کی تقدیر جو بھی ہے کیا کہنا چاہئے ، بہر حال وہ جدا ہوئے ہیں ہمارے دل کو حزیں بنا کے ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔اور ان کے ساتھ مکرم فقیر محمد صاحب جو موصی تھے گنری سندھ کے رہنے والے یہ وہ دوست ہیں جن کا میں نے ذکر کیا تھا کہ بہت لمبی عمران کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی تھی۔جب پہلی دفعہ میں ان سے ملا ہوں اس وقت بیان کیا جاتا تھا کہ ایک سو پندرہ سال کی عمر ہے لیکن اگر وہ اتنی نہ بھی ہوتی تو یہ تو پتا لگتا تھا کہ سوسال سے اوپر ہیں بہر حال اور اس واقعہ کو بھی پندرہ بیس سال ہو چکے ہیں۔ان کا خدا تعالیٰ نے دماغ صاف رکھا تھا بالکل۔جو رپورٹ آئی ہے اس میں بھی لکھا ہوا ہے کہ آخری وقت تک دماغ بالکل صاف تھا اور پوچھتے تھے میرا کہ وہ کب واپس آئے گا۔ان کے دل کی بڑی تمنا تھی کہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھاؤں۔دوسرے ان میں ایک خاص دلچسپ ادا یہ تھی کہ اپنا کفن بنوا کے اور بعض