خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 18

خطبات طاہر جلد ۶ 18 خطبہ جمعہ ۲/ جنوری ۱۹۸۷ء کو بیان فرماتے رہے کہ کتنا عظیم الشان واقعہ رونما ہوا تھا اس وقت۔بعض لوگ شاید غور نہیں کرتے اس بات پہ کہ یہ واقعہ جو ہے یہ عملاً ہم سب کی زندگی میں روزانہ رونما ہوتا ہے۔جب ہم خدا کو دیتے ہیں تو یہ سمجھ کے دینا چاہئے ، اگر یہ سمجھ کے دیں گے تو ہم میں سے ہر ایک کی ہر قربانی حسین ہو جائے گی کہ اے خدا! یہ جو میں تیرے حضور پیش کر رہا ہوں یہ آپ ہی کا ہے آپ ہی نے تو دیا تھا، میرا تو سارا وجود آپ کا ہے، میرا گھر، میرے بچے ، میرے اہل و عیال، میرے رشتہ دار، میری تمام وہ چیزیں جن سے میں فائدہ اٹھاتا ہوں ، جن سے زندگی کا لطف لیتا ہوں، سب کچھ تو نے دیا ہے۔مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ میں تیرے حضور کچھ پیش کر رہا ہوں مگر دل کی تمنا ہے، میں مجبور ہوں اس لئے اسے قبول فرما۔روزانہ ہم یہی کرتے ہیں لیکن خیال نہیں آتا اور اکثر لوگ یہ بھول کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم دے رہے ہیں خدا کو کچھ۔خدا کو کون دے سکتا ہے؟ ہماری مثال تو اس غریب پٹھان مہاجر عورت سے بھی کئی گنا آگے ہے اس جہت میں۔اس کو تو جو کچھ جماعت نے دیا تھا اس کے علاوہ وہ شاید سوت کات کے کچھ خود بھی کما لیتی۔مگر انسان اور خدا کی نسبت جو ہے اس میں تو کچھ بھی نہیں ہے جو خدا کے سوا کسی اور طرف سے ہمیں ملتا، جو ہم کماتے ہیں وہ بھی اس کے فضل سے ہی کماتے ہیں۔تو اگر اس پہلو سے آپ وقف جدید کی قربانیوں میں یا دوسری قربانیوں میں آگے حصہ لیں تو پھر آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کتنا پیار کا سلوک فرماتا ہے۔مصلح موعودؓ کے دل پر وہ واقعہ ثبت ہو گیا ، ہمیشہ کے لئے ایک نقش جمیل بن گیا۔تو مومن کی ہر ادا خدا کے اس قلب صافی پر، میں قلب صافی کا لفظ محاورے کے طور پر استعمال کر رہا ہوں ورنہ خدا کا تو کوئی قلب نہیں لیکن عرش ہے ایک، وہ اس کا بھی ظاہری وجود نہیں ، پس ان معنوں میں کہ بندہ مجبور ہے ، خدا کے لئے وہ لفظ استعمال کرنے پر مجبور ہے جو خدا کی ذات پر استعمال ہو نہیں سکتے مگر ان کے سوا ملتے بھی کچھ نہیں۔تو اس طرح جماعت احمد یہ عالمگیر اس عورت کی قربانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، اس کی ادا کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ اس نے وقت کے امام کے دل پر گہرا اثر کیا تھا، اپنے خدا کے حضور قربانیاں پیش کرتی رہے کہ خدا کے قلب صافی پر جماعت کی قربانیوں کے حسین نقش جمتے رہیں اور جس طرح اس اندھیرے میں ہونے والے مچاکوں کا مزہ آسمان پر خدا اٹھارہا تھا اس طرح ہمارے