خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد ۶ 218 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء اور خدا سے محبت کا اظہار تیری پیروی سے باندھ دیا گیا ہے۔اس کے سوا کوئی بھی صورت نہیں۔کس طرح انتشار کے ساتھ پھر تو حید پیدا ہوتی ہے اور کبھی نہ ٹوٹنے والا تو حید کا مضمون انسان کے سامنے امڈتا ہے۔محبت کے ذریعے جو تقویٰ نصیب ہوتا ہے اس میں پھر افتراق کوئی نہیں ہوتا۔اس میں مضمون کو آگے پیچھے کرنا یا خلط ملط کرنے کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا۔یہ وہم نہیں پیدا ہوسکتا پھر کہ آنحضرت ﷺ کے مقام کو نعوذ باللہ من ذالک خدا کی توحید کے مقابل پر نہ کھڑا کر دیا جائے۔ایسی حیرت انگیز آیت ہے كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ کہ اس کی روشنی میں آپ شش جہات میں سفر کر جائیں آپ کے لئے کوئی ٹھو کر نہیں ، کوئی خطرہ نہیں، کوئی خدشہ نہیں۔تقویٰ اگر سیکھنا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ سے سیکھا جائے گا، قدم قدم آپ کی پیروی سے سیکھا جائے گا لیکن آغاز اس سفر کا خدا کی محبت کے سوا اور ہو نہیں سکتا۔پس اس کا ایک دوسرا معنی یہ بھی بن جائے گا کہ ہر سفر کے لئے تم زادراہ لیتے ہوئے میرے پیچھے آنا چاہتے ہوا گر، اگر میرے پیچھے چلنا چاہتے تو میں انہیں کو بلاؤں گا جو خدا کی محبت کا زادراہ لے کر میرے پیچھے چلتے ہیں۔ورنہ میرا سفر ایسا وسیع ہے، ایسے راستوں سے گزرتا ہے کہ اس ذات کے سوا کوئی ذات تمہارے کام نہیں آسکتی۔چند دن میں تم فاقے سے مر جاؤ گے، میرے ساتھ نہیں چل سکو گے۔ہاں خدا کی محبت کا مضمون لے کر چلتے ہو تو پھر ہر قدم ، ہر وادی میں تمہارا سفر آسان ہوتا چلا جائے گا۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی پیروی اور خدا کی محبت کے نتیجہ میں آپ کی پیروی یہ مضمون ایک تاریخ بن چکا تھا اور اس تاریخ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوبارہ زندہ کر کے دکھایا۔ایک ایسے دور میں جو دہریت کا دور ہے ، جو مادہ پرستی کا دور ہے جب کئی قسم کے تو ہمات ہمارے دل میں پیدا ہوتے ہیں کہ خدا جانے چودہ سو سال پہلے کی باتیں ہیں تھیں بھی کہ نہیں تھیں، روایتیں غلط تو نہیں تھیں۔ان سارے شکوک کو حضرت رسول اکرم ﷺ کے کامل غلام نے اس دور میں اپنی عملی زندگی کا نمونہ پیش کر کے ہمیشہ کے لئے دور کر دیا اور وہ خدا جو آنحضرت ﷺ پر ظاہر ہوا تھا آپ کی سنت کی برکت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی ظاہر ہوا اور وہی ادا ئیں تھیں ، وہی پیار کی باتیں ، وہی مضمون اس میں کوئی فرق نہیں۔