خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 217
خطبات طاہر جلد ۶ 217 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء صلى الله نے اس مضمون کو سنت سے شروع سے باندھا ہوا ہے۔فرمایا خدا محبت نہیں کرے گا جب تک حضرت محمد مصطفی امیے کے پیچھے نہیں چلو گے اور ہم عام طور پر احمد یہ جماعت میں تو بکثرت اس بات کا اظہار دیکھتے ہیں کہ خدا کی خاطر کوئی انسان کوئی فعل کرتا ہے، پیار کا اظہار کرتا ہے، کوئی قربانی پیش کرتا ہے تو خدا اتنے مختلف رنگ میں اس کا جواب اس کو دیتا ہے، اتنے مختلف رنگ میں اپنے پیار کا اظہار اس پر کرتا ہے کہ حیران رہ جاتا ہے کہ میرا تو عمل کچھ بھی نہیں تھا اس کے مقابلے میں خدا نے مجھ سے پیار کیا۔یہاں تک تو بات درست ہے لیکن عموماً ذہن اگلا قدم نہیں اٹھا تا کہ مجھے کیوں نصیب ہوا ؟ اس لئے کہ یہ طریق میں نے آنحضرت ﷺ کی پیروی سے سیکھا تھا ، اس لئے کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی میں میری ساری زندگی کے اوپر ایک نقش کیا ہوا ہے، اگر وہ نقش نہ ہو تو میں خدا کی محبت کا جلوہ اس حصے میں نہیں پاسکتا اور جہاں جہاں وہ نقش نہیں ہوگا وہاں وہاں میری زندگی ویران ہوگی ، اس میں کوئی حسن نہیں ہوگا اور اس حصے میں زندگی کے اس دور میں گویا ایک سیر کرنے والا ایک ویرانے سے گزر رہا ہے جہاں اس کو نہ کوئی ٹھنڈا سایہ مل سکتا ہے ، نہ کوئی خوبصورت منظر ہے، اس لئے نہ کوئی ستانے کی جگہ ہے، نہ پیاس بجھانے کے لئے ٹھنڈا پانی۔ایسے سفر سے طبیعت اکتا جاتی ہے لیکن اگر خیال ہو، اگر وہ شعور بیدار ہو کہ لذت کیا ہے اور میں کیوں سفر کر رہا ہوں۔اگر شعور مر چکے ہوں تو بعض دفعہ انسان لمبے سفر کرتا ہے اس کو پتہ ہی نہیں لگتا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔وہ ایک بیوقوفی کی حالت میں بے ہوشی کی زندگی بسر کر دیتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ کی پیروی کا مضمون خدا کی محبت سے باندھ کر قرآن نے عجیب کرشمہ الله دکھایا ہے۔ہر دنیا کے مضمون کو آسان کر دیا ہے، ہر نیکی کے سفر کو آسان کر دیا ہے۔توحید کی روح ہمیں بتادی ہے ، تو حید خالص کہتے کس کو ہیں اور آنحضرت ﷺ سے محبت کرنے کا فلسفہ کیا ہے، آپ پر ہم درود کیوں پڑھیں اور کس طرح پڑھیں۔ہر پیروی کے بعد جب خدا آپ سے پیار کرے گا تو ہر پیار کے بعد آپ کو اگلا قدم اٹھانا چاہئے۔ہر پیار کے بعد بے ساختہ آپ کے دل سے درود اٹھنا چاہئے کہ اے میرے آقا! اے میرے محمد ﷺ! تیری جوتیوں کے غلام ہم جیسے غریب انسانوں کے ساتھ اگر خدا محبت کا اظہار فرما رہا ہے اس لئے کہ ہم نے تیری پیروی کی تھی