خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 214

خطبات طاہر جلد ۶ 214 خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۷ء ساتھ دل میں محبت پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اس لئے سنت کا جو ایک پہلو ہے کہ حدیث قدسی سے اس مضمون کو شروع کیا جائے میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ مؤثر طریق ہے۔قرآن کریم کے ذکر کے بعد آپ حدیث قدسی کی تلاش کریں۔حدیث قدسی کے بعد آنحضرت ﷺ کی روز مرہ زندگی میں اس حدیث کو جاری ہوتا دیکھیں تو اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے پیار کا پانا ایک کوشش کے نتیجے میں نہیں ہوگا بلکہ خود روندی کی طرح یہ محبت خود بخود بہتی چلی جائے گی اور انسان کو محسوس بھی نہیں ہوگا کہ کس طرح میں خدا کی محبت پا گیا۔ایک جاری سلسلہ بن جاتا ہے خدا کا پیار اور اس سے زیادہ آسان طریق اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا اور کوئی نہیں ہے۔مثال کے طور پر قرآن کریم کی وہ آیات جن کی میں نے پہلے تلاوت کی تھی گزشتہ خطبے میں ان میں ایک آیت یہ تھی فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِى لَهُمْ مِّنْ قُرَّةٍ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ (السجدہ: ۱۸) کہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ خدا کی خاطر رات کو اٹھنے والوں اور بستروں سے الگ ہونے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے کیسی کیسی آنکھوں کی ٹھنڈ کیں پوشیدہ رکھی ہوئی ہیں، چھپا کے رکھی ہوئی ہیں۔یہ آیت ایک حیرت انگیز محبت کا مضمون ہے جس کی کوئی مثال دنیا کے عشقیہ مضمون کلام میں آپ کو دکھائی نہیں دے سکتی۔وہ لوگ جو راتوں کو خدا کے لئے اٹھتے ہیں تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا بے اختیار خدا کو خوف اور طمع سے پکارتے ہیں۔وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجدہ : ۱۷) اور جو کچھ تمہارے لئے دیا ہے خدا کے نام پر خدا کو جیتنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنِ کوئی جان یہ معلوم نہیں کر سکتی۔کسی نفس کو یہ توفیق نہیں ہے کہ اندازہ کر سکے کہ ان کے لئے خدا نے کیا کیا آنکھوں کی لذتیں اور دل کی چاہت کے سامان پیدا فرما دیئے ہیں۔جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ یہ جزا ہے ان باتوں کی جو وہ کیا کرتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو کہ خدا کی خاطر اپنے سارے اعمال کو ڈھالا جائے کہ کوئی اجر ایسا سامنے نہ ہو جسے ہم جنت کہتے ہیں۔کوئی اجر ایسا نہ ہو جسے ہم دنیا کی مراد کہتے ہیں بلکہ خالصۂ محبت کی خاطر اللہ کے لئے انسان اٹھے اور محبت کی خاطر اسے یاد کرے اور آخری مقصو د رضائے باری تعالیٰ ہو۔اس مضمون کو آنحضرت ﷺ نے مختلف مواقع پر مختلف رنگ میں بیان فرمایا۔چنانچہ ایک موقع