خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 210

خطبات طاہر جلد ۶ 210 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء ہے ان کی نماز جنازہ غائب کے لئے درخواست کی گئی ہے۔جمعہ کے معا بعد انشاء اللہ ہم نماز جنازہ غائب پڑھیں گے۔سب سے پہلے ملک محمد خان صاحب جوئیہ، موصی تھے۔بھان ضلع خوشاب میں صدر جماعت تھے اور ہمارے شیر دل مجاہد اللہ کے فضل سے کلمہ طیبہ یعنی کلمہ شہادۃ کے لئے عظیم قربانی کرنے والے، جہانگیر محمد صاحب جوئیہ کے نانا تھے۔ان کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔جہانگیر محمد صاحب جوئیہ نے درخواست کی ہے ان کے لئے کہ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے۔پھر ہمارے ایک بڑے مخلص خاندان کے فرد شیخ محمد اقبال صاحب جو شیخ محمد حنیف صاحب کوئٹہ کے بھائی تھے اور شیخ کریم بخش صاحب جو کوئٹہ کی جماعت کے پہلے امیر رہے ہیں اور حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ ان کا بہت ہی عشق کا گہرا تعلق تھا اس لحاظ سے ان کی شخصیت ہمارے بچپن میں ہمارے ذہنوں میں نقش رہی جو خاص فدائی ہوتے تھے ان میں سے تھے وہ اور اسی لئے ان کی اولاد میں بھی یہی جذبہ آگے ورثے میں جاری رہا۔دل کا غالبا اچانک حملہ ہوا ہے اور یہ اچانک ان کی وفات کی اطلاع ملی ہے۔پھر مرزا انور بیگ صاحب ابن مرزا محمد جمیل بیگ صاحب یہ حضرت مصلح موعودؓ کے ڈرائیور ہوا کرتے تھے ضلع لاہور کے رہنے والے تھے۔ہمارے عبدالرزاق منگلا مربی سلسلہ کے خسر بھی تھے ان کی بھی وفات کی اطلاع ملی ہے۔ایک محمد سمیع اللہ خان صاحب طالب علم تھے یہ پنڈی بھٹیاں کے پاس بس کے حادثے میں وفات پاگئے۔بڑے مخلص اچھے نو جوان تھے ان کا بھی ان کے خاندان کو بہت گہرا صدمہ ہے۔ایک ہمارے مبشر احمد صاحب ہیں بچہ ہے چھوٹا طاہر احمد صاحب جرمنی کے ہیں ان کا تقریباً تین سال کا بچہ تالاب میں ڈوب گیا اور باہر بے چارے کی ٹوپی پڑی ہوئی تھی اس سے پولیس نے پھر تالاب سا را خشک کروایا تو اندر سے لاش نکلی۔ان سب کے لئے اور ان کے پسماندگان کے لئے بھی دعا کریں اللہ انہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔