خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 193
خطبات طاہر جلد ۶ 193 خطبہ جمعہ ۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء کسی بھی خطہ ارض سے تعلق رکھتے ہوں ان سب سے نکل نکل کر کچھ لوگ اسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک جھنڈے کے تلے جمع ہوتے چلے جارہے ہیں اور سب میں ایک نئی قومیت ابھر رہی ہے، نئی قومیت وجود پا رہی ہے، نئی قومیت نشو و نما دکھا رہی ہے یہاں تک کے ان کے رنگ ڈھنگ بالکل ایک جیسے ہو گئے ہیں۔یہ چیز جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ کسی حد تک دکھائی دینے لگی ہے اور وہ لوگ جن کو جماعت کے پس منظر کا کچھ علم نہیں ، جماعت کے فلسفہ کا کچھ علم نہیں وہ بھی محسوس کرتے ہیں۔چنانچہ گزشتہ جلسہ سالانہ کے بعد جو امیگریشن کے افسروں کی طرف سے تبصرے موصول ہوئے اس میں سب سے زیادہ اہمیت والا تبصرہ یہ تھا کہ عجیب سے لوگ ہیں احمدی کہ دنیا کے جس کونے سے بھی آئے ہیں ایک ہی قسم کے لوگ ہیں اور ہم ان کو پہچان جاتے تھے۔وہ ایک قسم کیا ہے یہ کسی کو سمجھ نہیں آئی۔کیسے ایک قوم بن سکتی ہے افریقہ سے آنے والے لوگوں کی اور پاکستان سے آنے والوں کی اور چین سے آنے والوں کی اور امریکہ سے اور جاپان سے غرضیکہ مختلف ممالک سے آنے والوں کی۔وہ کیا چیز ہے جس نے ایک قوم بنادیا اور ایک غیر نظر سے دیکھنے والے کو بھی محسوس ہوا کہ ان میں قدرے مشترک ہے۔وہ یہ بات تو نہیں پہچان سکتا تھا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تقویٰ ہی وہ قدرے مشترک ہے جو جماعت احمدیہ کو ایک قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔لیکن اس کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔بہت ہی ابھی خلاء ہیں اور ابھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تقویٰ کا رنگ ہماری ہر ادا پہ غالب آ گیا ہے۔جب یہ رنگ کسی جماعت پر غالب آجائے تو اس جماعت کا دنیا پر غالب آنا ایک لازمی امر ہو جاتا ہے اس کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔یہ واقعہ رونما کر لیں آپ کہ جماعت احمدیہ کی ہر ادا پر تقومی غالب آجائے تو آسمان اور زمین گواہ ہو جائیں گے اس بات پر کہ آپ لازما ساری دنیا پر غالب آئیں گے کوئی دنیا کی طاقت آپ کو روک نہیں سکتی اور یہ غلبہ ہے جوحقیقی غلبہ ہے، یہ غلبہ ہے جو معنی رکھتا ہے، یہ وہ غلبہ ہے جو دنیا کی بھلائی اور اس کی بہبود کے لئے ضروری ہے۔اس لئے تقویٰ کے متعلق میں نے سوچا کہ مزید مختلف پہلوؤں سے اس پر وقتا فوقتا روشنی ڈالتا رہوں۔ایک بڑا سوال یہ ہے کہ تقویٰ کیسے حاصل ہو، ہوتا کیا ہے تقویٰ؟ اس کے متعلق کچھ حصہ