خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد ۶ 151 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء ان کا کلمہ پڑھنا کلمہ کی تو ہین ہے اور تو ہین کیوں ہے اس مضمون پر چھوٹے چھوٹے رسائل اور پمفلٹس بڑی کثرت کے ساتھ تقسیم کئے جارہے ہیں۔لکھوکھا کی تعداد میں پاکستان میں ایسے پمفلٹس شائع کئے گئے اور باہر کی دنیا میں بھی کثرت سے شائع کئے گئے۔پہلے میں نے اس کو نظر انداز اس لئے کئے رکھا کہ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے سارا پاکستان جانتا ہے جو احمدیوں کو جانتا ہے کہ یہ مولوی جھوٹ بول رہے ہیں اور جتنے بھی الزامات ایسے رسائل میں ہیں وہ جھوٹے الزام ہیں، ان کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔مگر بیرونی دنیا کو واقعہ دھوکے میں ڈالا جا سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے لوگ جن کو کچھ بھی پتہ نہیں جماعت احمدیہ کا یا کبھی جماعت سے ان کا واسطہ نہیں پڑا ، ان کو جب اس قسم کے رسائل پہنچائے جائیں گے تو یقینا غلط نہی پیدا ہو گی۔چنانچہ عرب دنیا میں ایک بہت بڑی نفرت کی خلیج حائل کی گئی ہے ان رسائل کے ذریعہ جماعت کے خلاف اور اسی طرح باہر یورپ سے بھی اطلاعیں مل رہی ہیں کہ وہاں بھی جب ان رسائل کے اشاعت کی جاتی ہے تو جماعت سے نفرتیں بڑھنے لگتی ہیں، دوریاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ایسے رسائل کا جواب جو علمی رنگ رکھتا ہو گا۔بہر حال ہر جواب علمی رنگ میں ہونا چاہئے میرا مطلب یہ ہے نقطہ یہ نقطہ جواب جو کتب کے حوالے سے کھول کر بیان کیا جائے اور دکھایا جائے کہ کہاں الزام لگانے والے جھوٹے ہیں کیا افترا پردازی کی گئی ہے، کہاں تلبیس سے کام لیا گیا ہے؟ ایسا جواب تفصیلی انشاء اللہ تعالیٰ شائع کیا جائے گا۔مگر مختصر ابنیادی طور پر جو جواب ہے وہ میں آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جو کتابچے شائع کئے گئے ہیں ان میں سے ایک کتابچے میں جو ذیلی عنوانات ہیں وہ یہ ہیں:۔قادیانی محمد رسول اللہ محمد رسول اللہ کی دو بعثتیں ، مرزا بعینہ محمد رسول اللہ محمد رسول اللہ کے تمام کمالات مرزا قادیانی میں، مرزا خاتم النبيين"، مرزا اہل الرسل فخر الاولین والآخرین، پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر، ہلال اور بدر کی نسبت بڑی فتح مبین، روحانی کمالات کی ابتداء اور انتہا، یہنی ارتقاء محمد عربی کا کلمہ پڑھنے والے کافر۔ان عنوانات سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ کیا کیا افترا پردازیاں جماعت کے خلاف کی گئی ہوں گی۔خلاصہ آخر پر جو مولوی صاحب یہ رسالہ لکھنے والے ہیں یہ بیان کرتے ہیں کہ :۔مندرجہ بالا حوالوں پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد کو محمد رسول اللہ ﷺ کا ظہور اکمل سمجھ کر اس کا کلمہ پڑھتے ہیں اور